تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 554

مسیح علیہ السلام سے لیکن ان کا یہ دعویٰ باطل ہو گا کیونکہ ابن آدم یعنی مسیح تو صرف بنی اسرائیل کے لئے آئے گا غیر قوموں کو اس کے مذہب میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہ ہوگی جیسے کہ خود مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں ’’میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی پاس نہیں بھیجا گیا‘‘ (متی باب ۱۵ آیت ۲۴) اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے جب اپنے بعض حواریوں کو مبلّغ بنا کر بھیجوایا تو انہیں مندرجہ ذیل الفاظ میں حکم دیا۔’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا‘‘ (متی باب ۱۰ آیت ۵) پس رومی لوگ جو اپنے آپ کو مسیحی کہتے تھے ان کی مثال ایسے وجود کی تھی جو اپنے آپ کو ایسی نسل میں شامل کرتا ہے جس میں وہ شامل ہونے کا حق نہیں رکھتا اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ انسان سے مراد مسیح ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام بار بار انجیل میں ابن آدم آتا ہے چنانچہ متی باب ۲۴ آیت ۲۷ میں لکھا ہے ’’جیسے بجلی پورب سے کوندھ کے پچھم تک چمکتی ویسا ہی ابن آدم کا آنا بھی ہو گا۔‘‘ پس انسان سے مراد اس جگہ ابنِ آدم کے ساتھ اپنے آپ کو منسوب کرنا ہے۔اَن گھڑ پتھر سے مراد آنحضرتؐ کا اُمیّ ہونا پھر لکھا تھا کہ وہ ان گھڑ پتھر ہو گا اس سے مراد یہ تھی کہ وہ پڑھا لکھا نہ ہو گا اور انسانوں نے اسے تعلیم نہ دی ہو گی چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امّی تھے اور قرآن کریم نے اس پیشگوئی کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے۔اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ (الاعراف :۱۵۸) یعنی وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی اور امّی کی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے اس آیت میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تورات اور انجیل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تین ناموں سے کیا گیا ہے۔(۱) ر سول کے نام سے(۲)نبی کے نام سے(۳)اور اُمیّ یعنی اَن پڑھ کے نام سے۔اور جیسا کہ اوپر کے حوالجات میں بتایا گیا ہے عہد نامہ قدیم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَن گھڑے پتھر کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور انجیل نے اس پیشگوئی کی تصدیق کی ہے اور گویا عربی زبان کے محاورہ کے مطابق آپ کے اُمّی ہونے کی خبر دی ہے۔اَن پڑھ ہونے کی پیشگوئی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہو سکتی بعض لوگ اس پیشگوئی کو نادانی سے مسیح ناصری پر چسپاں کرتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ مسیح اَن پڑھ نہ تھا اس کے انسان اُستاد تھے چنانچہ لکھا ہے ’’تب یسوع جلیل سے یردن کے کنارے یوحنا کے پاس آیا تاکہ اس سے بپتسمہ پاوے۔‘‘ (متی باب ۳ آیت ۱۳) پھر لکھا ہے ’’اور یسوع بپتسمہ پا کے وہیں پانی سے نکل کے اوپر آیا۔‘‘ (آیت ۱۶) پس مسیح نے نہ صرف مادی تعلیم پائی بلکہ رُوحانی تعلیم کے لئے بھی وہ یحییٰ ؑ کا شاگرد ہوا پس وہ امّی نہیں کہلا سکتا اور اس پیشگوئی کے مصداق کے لئے اُمّی