تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 556

تک کہ وہ پیشگوئی موسیٰ کی پوری نہ ہو لے کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ایک نبی موسیٰ کی مانند آئے گا۔(۲) موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ سمو ایل سے لے کر آخر تک سب نبیوں نے اس آنے والے کی خبر دی ہے۔(۳) مسیح اوّل کی آمد اس نبی کے لئے بشارت دینے والے کی تھی کیونکہ لکھا ہے تمہارے پاس خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اُٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم کو اپنی بدیوں سے پھیر کے برکت دے۔میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ موسیٰ کی مانند نبی یا انجیل کے محاورہ کے مطابق وہ نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔پس اس پیشگوئی میں جو کہا گیا ہے کہ ضروری ہے کہ مسیح آسمان پر ہی رہے جب تک سب پیشگوئیاں خصوصاً مثیلِ موسیٰ کے آنے کی پیشگوئی پوری نہ ہو جائے۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دی گئی تھی نیز یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح کی پہلی آمد اس لئے تھی کہ تا وہ اس نبی کے لئے راستہ صاف کریں اور لوگوں کے دلوں کو گناہوں سے صاف کر دیں تا وہ اس پر ایمان لائیں کیونکہ لکھا ہے خدا نے یسوع کو اُٹھا کے پہلے بھیجا۔یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ مسیح کی آمد بطور ایک مبشر کے تھی اور غرض یہ تھی کہ کچھ لوگوں کے دل صاف ہو جائیں اور یہودیت کی سختی ان کے دلو ںپر سے جاتی رہے اور ایسا ہی ہوا۔قرآن کریم فرماتا ہے۔لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَهُوْدَ وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠۔وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ (المائدۃ :۸۳،۸۴) یعنی مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن تو یہود کو پائے گا اسی طرح مشرک لوگوں کو۔اور مسلمانوں سے محبت کرنے میں سب سے زیادہ قریب تو ان لوگوںکو پائے گا جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں یہ اس لئے ہے کہ ان میں پادریوں اور زاہدوں کا گروہ پایا جاتا ہے اور اس لئے بھی کہ ان میں فروتنی پائی جاتی ہے اور جب وہ اس کلام کو جو ہمارے اس رسول پر نازل ہوا ہے سنتے ہیں تو اس وجہ سے کہ انہوں نے سچ کو پہچان لیا ہے تجھے ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ کہتے ہیں اے ربّ! ہم ایمان لے آئے ہمارا نام بھی گواہوں میں لکھ لے۔غرض قرآن کریم بھی مسیح کی اس پیشگوئی کی تصدیق کرتا ہے کہ مسیح نے پہلے آ کر بہتوں کے دلو ںکو گناہوں سے پھیر دیا اور انہیں برکت دی حتّٰی کہ وہ اس نبی کو جو موسیٰ کی مانند تھا ماننے کے قابل ہو گئے۔اوپر کی پیشگوئی کو پورا کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح اور سمو ایل سے لے کر آخر تک کے سب نبیوں کی تصدیق کی۔اگر آپؐ نہ آتے تو یہ سب کے سب جھوٹے ٹھہرتے۔