تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 534

اس سوال کا جواب کہ حضرت اسماعیل کی نسل کو ایک لمبے عرصہ تک انعام سے کیوں محروم رکھا گیا؟ ایک اور شبہ کا ازالہ بھی میں اس جگہ کر دینا چاہتا ہو ں۔کہا جا سکتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑ تو بڑے بھائی تھے۔ان کی نسل کو ایک لمبے عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے انعام سے کیوں محروم رکھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بنو اسحاق گو بعد میں کیسے ہی بگڑے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینکڑوں سال تک انہوںنے دین کی شمع کو اُٹھائے رکھا اس لئے وہ یقیناًخدا تعالیٰ کے خاص فضلوں کے وارث ہوئے۔بنو اسمٰعیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک اس رتبہ کو نہیں پہنچے اس لئے بقدر ضرورت ہی انہیں انعام ملا۔ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے جوہرِ کامل بنو اسمٰعیل میں سے ہوئے کہ جنہوں نے سب کمی کو پورا کر دیا۔اور چونکہ آپؐ خاتم النبیین ہونے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ سب دوسرے انبیاء کو جو براہِ راست نبوت کے مقام پر کھڑے ہونے والے تھے پہلے گزرنے دیا جاتا تا آخر میں آپ تشریف لاتے اور شریعت والی اور براہِ راست نبوت کا دروازہ مسدود کر دیا جاتا۔وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ اور اس کلام پر ایمان لاؤ جو میں نے (اب) اتارا ہےاور جو اس (کلام )کو جو تمہارے پاس ہے سچا کرنے والا ہے كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ٞ وَ اِيَّايَ اور تم اس کے (سب سے )پہلے کافر نہ بنو اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی قیمت مت لو اور مجھ (ہی) سے فَاتَّقُوْنِ۰۰۴۲ (ڈرو) پھر( میں کہتا ہوں کہ) مجھ(ہی) سے ڈرو۔حَلّ لُغَات۔اٰمِنُوْا۔اٰمِنُوْا امر حاضر جمع کا صیغہ ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔اَنْزَلْتُ۔اَنْزَلْتُ اَنْزَلَ سے واحد متکلم کا صیغہ ہے اور اَنْزَلَ کے لئے دیکھو۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۵۔مُصَدِّقًا۔مُصَدِّقًا صَدَّقَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور صَدَّقَہٗ کے معنے ہیں۔ضِدُّ کَذَّ بَہٗ اسے سچا قرار