تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 533

شرعی نبوت کا دروازہ مسدود ہو چکا تھا اور صرف موسوی شریعت کے تابع نبوت کا دروازہ کھلا تھا کیونکہ استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸ میں صاف لکھا تھا کہ شریعت والا نبی آیندہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے یعنی بنو اسمٰعیل میں سے آئے گا۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ان میں بغیر شریعت کے نبی آتے تھے اور نبوت محمدیہ پر ایمان لانے کے بعد بھی یہ دروازہ ان کے لئے بند نہ تھا۔پس فرمایا کہ اگر اب بھی اپنے عہد کو پورا کرنے لگو تو اس انعام سے حصہ پا سکتے ہو۔وَ اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ وَ اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِعام طور پر اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ پس مجھ ہی سے ڈرو مگر یہ پورے معنے اس جملہ کے نہیں کیونکہ اِیَّایَ مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف نکالنا ضروری ہے جو اگلے الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اِرْھَبُوْا ہے پس وَاِیَّایَ کے معنے ہوئے اور ڈرو مجھ سے، اس کے بعد’’فا‘‘ آیا ہے جو امر محذوف پر دلالت کرتا ہے اور وہ امر بھی عبارت کے مطابق ہی نکالنا ہو گا اور وہ اِرْھَبُوْا ہی ہو سکتا ہے پس محذوف کو ظاہر کر کے عبارت یہ ہو گی وَارْھَبُوْا اِیَّایَ اِرْھَبُوْا فَارْھَبُوْنِ۔اور ترجمہ یہ ہو گا کہ او رمجھ ہی سے ڈرو ڈر جائو پس مجھ ہی سے ڈرو گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے خوف کو تین دفعہ بیان کیاگیا ہے۔اس وہم کا ازالہ کہ خدا تعالیٰ کے خوف پر کیوں زور دیا جاتا ہے اس جگہ بعض مغرب کے فلسفہ سے متأثر لوگوں کو شاید یہ وہم ہو کہ خدا تعالیٰ کے خوف پر اس قدر زور کیوں دیا گیا ہے؟ ایسے لوگوں کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خوف بُری چیز نہیں۔خوف تقویٰ کے پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔انسان مختلف حالتوں کے ہوتے ہیں۔بعض محبت سے مانتے ہیں اور بعض خوف سے۔پس جس ہستی کے مدِّنظر اصلاح ہو گی وہ خوف اور محبت دونوں سے کام لے گی۔فلسفہ انسان کی اصلاح نہیں کر سکتا اصلاح تو مرض کے مطابق علاج کرنے سے ہوتی ہے پس جو لوگ گندے ہو چکے ہوں ان کو ان کے عیوب کے بدنتائج سے ڈرا کر ہی ان کی اصلاح کی جا سکتی ہے جو اس طریق کو استعمال نہ کرے گا۔اصلاح کے کام میں ناکام رہے گا۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ رَھْبٌ کے معنے عام خوف کے نہیں بلکہ رَھْبٌ کے معنوں میں کوشش اور جدوجہد کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے چنانچہ عرب کہتے ہیں رُھِبَتِ النَّاقۃُ اور اس کے معنے ہوتے ہیں جَہَدَھَا السَّیْرُ یعنی اونٹنی خوب دوڑائی گئی اور تھک گئی۔پس رَھْبٌ اس خوف کو کہتے ہیں جو کام کی طرف رغبت پیدا کرے۔اسی وجہ سے عابد لوگوں کو راہب کہتے ہیں۔