تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 529
وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ١ٞيَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ١ؕ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(الاعراف :۱۵۷، ۱۵۸) یعنی میری رحمت ہر ایک چیز پر وسیع ہے میں ضرور ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ کریں اور زکوٰۃ دیں اور ہماری آیات پر ایمان لائیں اسے لازم کردوں گا (خواہ وہ کسی قوم کے ہوں) ہاں! ان لوگوں کے لئے جو اس رسول نبی اور اُمیّ کی فرمانبرداری کرتے ہیں جسے وہ اپنی اپنی کتب تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیںاچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور برُی باتوں سے روکتا ہے او رپاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتا ہے (برخلاف یہود کے جو بہت سی پاک چیزوں کو اپنی تنگ ظرفی کی وجہ سے حرام قرار دیتے ہیں) اور گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے (برخلاف نصاریٰ کے جو سؤر اور خون جیسی ممنوع اور بُری چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں) اور ان کے کمرتوڑ دینے والے بوجھوں کو دُور کرتا ہے اسی طرح ان طوقوں کو بھی جو ان کے گلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔پس وہ جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی زبانوں اور تلواروں سے اس کی اعانت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اُتارا گیا ہے (یعنی قرآن کریم) وہ ضرور کامیاب ہوںگے یعنی باوجود غیر عرب ہونے کے ان برکات سے حصہ پائیں گے جو عرب کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت سے وابستہ ہیں کیونکہ وہ کسی ایک قوم کا نبی نہیں بلکہ سب دنیا کا نبی ہے چنانچہ اگلی آیت میں اس مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے فرماتا ہے۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا (الاعراف:۱۵۹) تو کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں یعنی مجھ پر ایمان لانے والے سب کے سب ان انعامات کے وارث ہوں گے جن کا مجھ سے وعدہ ہے اور صرف میری قوم ہی کے لوگ ان سے فائدہ نہ اٹھائیں گے۔حضرت موسیٰ ؑکی زبان سے ایک موعود نبی کی پیشگوئی اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں ایک نبی اُمّی کا ذکر موجود ہے اور اس پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس کی اطاعت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کے پورا ہونے کا تعلق ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کی قوم سے کیا گیا تھا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جب وہ موعود نبی آئے گا تو اس وقت اس عہد کو جو موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے کیا گیاتھا اللہ تعالیٰ صرف انہی سے