تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 528

جب کوئی نبی تیری مانند کھڑا کیا جائے گا (یعنی صاحبِ شریعت ہو گا)تو وہ ان کے بھائیوں میں سے ہو گا(یعنی ان میں سے نہ ہو گا) گو حضرت موسیٰ نے کہا ہے کہ تم میں سے تمہارے بھائیوں میں سے نبی کھڑا کیا جائے گا۔(استثنا باب ۱۸ آیت ۱۵) لیکن اوّل تو یہ خدا تعالیٰ کے اس کلام کے خلاف ہے جو اس نے موسیٰ ؑ سے کیا۔کیونکہ اس میں ’’تم میں سے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ صرف یہی ہے کہ تیرے بھائیوں سے۔دوم یہ فقرہ ہی بے معنی ہے کہ تم میں سے۔تمہارے بھائیوں میں سے جبکہ اس کلام کے سب بنی اسرائیل مخاطب تھے تو پھر تم میں سے کہہ کر تمہارے بھائیوں میں سے کہنا لغو تھا۔جب بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا جائے گا کہ تمہارے بھائیوں سے نبی کھڑا کیا جائے گا۔تو وہ بنی اسرائیل کے سوا کسی اور قوم میں سے ہو گا نہ ان میں سے اور اگر ان میں سے ہو تو پھر بھائیوں سے نہیں کہلا سکتا۔بنی اسرائیل کا خدا تعالیٰ کے کلام کو سننے سے انکار سوم بنی اسرائیل کے بھائیو ںمیں سے نبی کھڑا کرنا تو سزا کے طور پر تھا۔اگر انہیں میں سے نبی ہو۔تو سزا نہیں رہتی۔جیسا کہ استثنا باب ۱۸ آیت ۱۶ میں لکھا ہے ’’اس سب کی مانند جو تو نے خداوند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنوں اور ایسی شدت کی آگ َمیں پھر دیکھوں تاکہ میں مر نہ جائوں‘‘ پھر لکھا ہے ’’اور خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا۔سو اچھا کہا۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوںمیں سے تجھ سا ایک نبی برپا کرونگا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا۔اور جو کچھ میں اُسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا۔‘‘ (استثنا باب ۱۸آیت ۱۷ و ۱۸) بنی اسرائیل کے عہد پر قائم نہ رہنے سے اُن سے نعمت کا چھن کر بنواسماعیل میں آنا اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ بنی اسرائیل نے خدا کا کلام سننے سے انکار کر دیا جو کلام کہ شریعت کے متعلق تھا تو آئندہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے شریعت کا دروازہ بند کر دیا اور کہا کہ جب کسی ایسے نئے نبی کی ضرورت ہو گی جو موسیٰ کی مانند ہو تو وہ ان کے بھائیوں میں سے کھڑا کیا جائے گا۔اس عہد کے ماتحت بنی اسرائیل کو ہر قسم کی ترقی ملتی رہی اور ان کی روحانی زندگی کے لئے بادشاہ ہوتے رہے۔اور ان کو سوائے ایک قلیل درمیانی مدت کے ارضِ مقدس پر حکومت میسر رہی گو مسیح کے نزول کے بعد ارضِ مقدس کا قبضہ اس گروہ کے ہاتھ آ گیا جو مسیح کا ماننے والا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اسی عہد کی طرف اہل کتاب کو متوجہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم سے تمہارا ایک عہد تھا۔جس کے پورا کرنے کی صورت میں ہم نے تم سے برکت کی زندگی کا وعدہ کیا تھا۔تم اگر اس عہد کو پورا کرو۔تو میں اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد کا ذکر قرآن کریم میں ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔موسوی عہد کا ذکر قرآن مجید میں مذکورہ بالا موسوی عہد کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے فرماتا ہے