تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 530

پورا کرے گا جو اس پر ایمان لائیںگے چنانچہ لکھا ہے ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروںگا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا او رجو کچھ میں اسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اُس سے لُوں گا‘‘ (استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸، ۱۹) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل کے متعلق جو وعدہ کیا تھا اس کا زمانہ اس موعود نبی کی بعثت تک تھا۔اس کی بعثت کے بعد یہ شرط تھی کہ اگر بنی اسرائیل اس نبی کو مانیںگے تو انعام پائیں گے ورنہ سزا پائیںگے اور اسی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ (البقرۃ:۴۱)تم اپنا عہد مجھ سے پوراکرو تو میں اپنا عہد تم سے پُورا کروںگا۔بنی اسرائیل کے عہد کے ٹوٹنے کے متعلق دو شبہات کا ازالہ اس جگہ دو شبہات پیدا ہوتے ہیں ایک یہ کہ ہر نبی کے منکروں کو ہی سزا ملتی ہے اور بنی اسرائیل میں موسیٰ کے بعد بہت سے نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے تھے جن کا انہوں نے انکار کیا پس عہد تواس وقت ہی ٹوٹ چکا تھا پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پیشگوئی کا خاص تعلق کیونکر ہوا؟ (۲) دوسرے یہ کہ اگر پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق تھی تو ان کی بعثت سے بنی اسرائیل کا زمانہ تو ختم ہو گیا پھر یہ کیوں کہا گیا ہے کہ تم اپنا عہد پورا کرو تو میں اپنا عہد پورا کروں گا؟ بنی اسرائیل کے توبہ کر لینے سے نبوت ان کی قوم میں واپس تو جا نہ سکتی تھی پھر یہ الفاظ کیوں کہے گئے۔پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنی اسرائیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی بہت سے نبیوں کا انکار کیا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ وہ چونکہ ان کے قومی نبی تھے بعد میں ان کے حالات اور الہام ان کی مقدس کتب کے مجموعہ میں شامل ہو گئے پس وہ انکار عارضی تھا اس سے قومی تفریق نہیں ہوتی تھی۔اس وجہ سے قوم ان انبیاء کی معرفت آنے والے انعامات سے محروم نہ ہوتی تھی۔ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہ عرب نے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا لیکن آخر میں ان پر ایمان لے آئی۔ہاں آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار بنی اسرائیل نے شدّت سے کیا اور بعد میں ان پر ایمان بھی نہ لائے لیکن بہرحال وہ بھی اسرائیلی نبی تھے اور بنی اسرائیل کا وہ حصہ جو ان پر ایمان لایا اس عہد کے تسلسل کو قائم رکھنے والا تھا اور اگر وہ اپنے عہد کو قائم رکھتا تو نبوت کا انعام پھر بھی ان کو ملتا لیکن انہوں نے بھی اس عہد کو قائم نہ رکھا اور نبوت دوسری طرف منتقل ہو گئی۔یہود نے تو عہد کے روحانی پہلو کو ُبھلا کریعنی دل کی پاکیزگی کو نظر انداز کر کے خدا تعالیٰ سے عہد کو توڑ دیا اور جو بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے انہوں نے ظاہری ختنہ کو چھوڑ کر عہد کے نشان کو مٹا دیا۔پس