تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 497
ہو جو اس حکم کو مدِّنظر رکھے اور شیطان کا سر پوری طرح کچلا جائے۔لوگ خود نیک بھی ہو جائیں تو اولاد کی محبت یا ان پر حد سے زیادہ اعتماد کر کے اسے خرابی میں پڑنے کا موقع بہم پہنچا دیتے ہیں اور پھر قوم نیکی کی چوٹی سے نیچے گر جاتی ہے۔آیت وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ الخ سے مسلمانوں کے ایک غلط عقیدہ کا قلع قمع اس آیت سے ایک اور زبردست استدلال ہوتا ہے جو مسلمانوں کے ایک غلط عقیدہ کا قلع قمع کرتا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے لئے اسی دنیا میں رہنے کا فیصلہ فرمایا ہے اور شیطانی حملہ سے بچنے کے لئے کسی اور جگہ جانے کو ناممکن بتایا ہے لیکن باوجود اس کے بعض مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شیطان کی ذرّیت نے حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ ان سے بچانے کے لئے انہیں آسمان پر لے گیا۔یہ عقیدہ اس آیت کے صریح خلاف ہے اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ باوجود شیطان کے حملہ کے آدم اور ان کی اولاد کو اسی دنیا میں رہنا ہو گا پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ آسمان پر لے جاتا؟ اگر کوئی حقدار تھا کہ اسے آسمان پر لے جایا جاتا تو وہ آدم علیہ السلام تھے جو سب سے پہلے نبی تھے یا پھر سیدِ وُلدِ آدم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے مگر حضرت آدم کی نسبت تو مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں شیطان کے حملہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین پر پھینک دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ جانا پڑا اگر اللہ تعالیٰ نے ان دو کی نسبت اس آیت کا بیان کردہ قانون نہیں بدلا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیونکر بدل دیا اور خود اپنے فیصلہ کو کیوں غلط کر دیا؟ اس سوال کا جواب کہ آدم علیہ السلام کو شجرہ کے ذریعہ سے شیطان نے کس طرح دھوکا دیا آدم علیہ السلام کو اس شجرہ کے ذریعہ سے شیطان نے کس طرح دھوکا دیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس سے بھی اور اس درخت سے بھی ہوشیار کر دیا تھا تو پھر وہ شیطان کے دھوکے میں کس طرح آئے کچھ جواب تو اس کا مَیں اوپر دے آیا ہوں کچھ اس جگہ بیان کرتا ہوں۔میں بیان کر چکا ہو ںکہ جہاں تک ابلیس سے دھوکا کھانے کا سوال ہے اس دھوکے کی وجہ یہ ہے کہ گو آدم علیہ السلام کو ابلیس سے بچنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ تھا کہ ابلیس اور اُس کے اتباع سے بچو کیونکہ ابلیس تو ایک بدی کی محرّک روح ہے وہ براہ ِراست تو آ کر آدم کو دھوکا دے نہ سکتی تھی اس کے اتباع ہی برُی تحریکوں کا موجب ہو سکتے تھے مگر یہ اتباع چونکہ انسان ہوتے ہیں بسا اوقات ان کا پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔کبھی وہ ظاہر میں مومن بن کر ساتھ آ ملتے ہیں اور اس طرح دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور انسان کے لئے یہ جاننا مشکل ہو