تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 498

جاتا ہے کہ کیا یہ اب بھی ابلیس کے اتباع ہیں یا مومن ہو کر خیر خواہ ہو گئے؟ جس شیطان کا اس جگہ ذکر ہے اس نے بھی اس ترکیب کو استعمال کیا تھا چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ (الاعراف :۲۲) یعنی اس شیطان نے آدم اور اس کے ساتھی کے سامنے قسمیں کھا کر کہا کہ میں یقیناً تمہارا خیر خواہ ہوں گویا مخالفت کا رنگ چھوڑ کر وہ ساتھ آ شامل ہوا او راپنے اخلاص کا انہیں یقین دلایا اس صورت میں آدم علیہ السلام کو دھوکا لگنا بالکل ممکن تھا کیونکہ انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ گو یہ شخص پہلے ابلیس کا ظِلّ تھا اور اس وقت اس سے بچنا ضروری تھا مگر اب تو یہ مخالفت کا راستہ ترک کر کے ہمارے ساتھ آ ملا ہے اور قسمیں کھاتا ہے کہ میں تمہارا مخلص خادم ہوں اب اس سے تعلق رکھنے میں کوئی ہرج نہیں۔یہ اجتہاد گو غلط تھا مگر باوجود ابلیس سے بچنے کے حکم کے اس اجتہاد کی وجہ سے دھوکا کھا جانا بالکل ممکن تھا اور یہ دھوکا خلاف عقل نہیں۔ایسے ہی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ۔اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ۔وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ (المنافقون :۲تا۵) یعنی جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو یقیناً اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو واقع میں اس کا رسول ہے مگر اللہ ان کی گواہی کے مقابل پر یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں۔ان لوگوںنے اپنی َقسموں کو اپنے بچائو کے لئے ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ان کے یہ عمل بہت ہی برُے ہیں۔یہ اعمال ان سے اس وجہ سے سر زد ہوتے ہیں کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پس ان کے دلوں پرمہریں کر دی گئیں اور اب یہ کچھ نہیں سمجھتے اور جب تو ان پر نگہ کرے تو ان کے جسم تجھے پسند آتے ہیں اور اگر یہ بات کریں تو ان کی باتوں کو معقول سمجھ کر سنتا ہے۔وہ یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے بڑی بڑی لکڑیاں ٹیک لگا کر کھڑی کی ہوں۔یعنی مجالس میں بڑی شان سے اور رُعب سے بیٹھتے ہیں۔جو عذاب بھی آئے یہ اسے اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں یہ لوگ اصل دشمن ہیں ان سے بچ کر رہ۔اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کدھر َلوٹے جا رہے ہیں۔ان آیات میں منافقوں کی حالت کا وہی نقشہ کھینچا گیا ہے جو اوپر کی آیت میں شیطان کا کھینچا گیا ہے۔یہ بھی قسمیں کھاتے تھے جس طرح شیطان نے قسمیں کھائیں تھیں یہ بھی اپنے اخلاص کا دعویٰ کرتے تھے جس طرح