تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 496

عَنْھَاکی ضمیر شجرہ کی طرف پھیرنے سے عَنْکے معنے سببیّت کے ہوتے ہیں عَنْکے معنے سببیّت کے عربی زبان میں عام ہیں۔لُغت میں لکھا ہے اَلرَّابِعُ التَّعْلِیْلُ نَحْوَ وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ (اقرب) یعنی چوتھے معنے عَنْ کے تعلیل کے ہوتے ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ (التوبة:۱۱۴) جس کے معنے یہ ہیں کہ ابراہیم نے جو استغفار اپنے باپ کے لئے کیا تھا وہ صرف ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عَنْہَاکے معنے یہ ہوںگے کہ شَجَرَۃ کو سبب اور ذریعہ بنا کر شیطان نے حضرت آدم کے قدم کو بغیر اس کے کہ ان کا اپنا ارادہ ہوتا پھسلا دیا۔فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ۔اور اس طرح جس حالتِ امن میں وہ تھے اس سے انہیں نکال دیا یا یہ کہ جس جنت میں وہ تھے وہاں سے انہیں نکال دیا۔مگر پہلے معنے زیادہ درست ہیں کیونکہ جنت میں سے نکلنے کا حکم اس کے بعد دیا گیا ہے ہاں اگر یہ مطلب لیا جائے کہ جنت میں سے نکالے جانے کا مستحق بنا دیا تو دوسرے معنے بھی درست ہو سکتے ہیں۔قُلْنَا اهْبِطُوْاکی تشریح وَقُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا۔اور ہم نے کہا کہ جائو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے یعنی اس دشمنی کو یہیں ختم نہ سمجھنا یہ دشمنی آئندہ جاری رہے گی اور ہر نبی کے وقت میں پھر شیطان اسی طرح حملہ کرنے کی کوشش کیا کرے گا۔وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ میں مومنوں کو اپنی اولاد کو شیطان سے بچاتے رہنے کا حکم وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۔یعنی اسی زمین میں تم کو رہنا اور فائدہ اُٹھانا ہے پس ہوشیاری سے کام کرنا۔شیطان کی ذرّیت سے الگ ہو کر رہنے کی کوئی صورت نہیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔پس ہر وقت چوکس رہنے کی کوشش کرو۔دوسرے یہ زندگی آئندہ زندگی کے لئے سامان جمع کرنے کا ذریعہ ہے اس سے غافل نہ رہو اور دوسری زندگی کے لئے سامان جمع کرتے رہو۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ مومن و کافر نیک اور بد کو ایک ہی جگہ رہنا پڑتا ہے اس لئے مومنوں اور نیکوں کو اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو شیطان کے حملہ سے بچانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔یہ حکم ایسا ضروری ہے کہ اسے نظر انداز کرنے کی وجہ ہی سے ہمیشہ نیکی کا زمانہ مٹ جایا کرتا ہے۔جب بھی مومن اور نیک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شیطانی حملہ سے محفوظ ہو گئے ہیں تنزّل کا دور شروع ہو جاتا ہے اور شیطان غالب آنے لگ جاتا ہے۔کاش کوئی قوم ایسی پیدا