تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 482

اَظلال کا وجود بھی پیدا کیا کہ ایک گروہ تو نیکی کی تحریک دلوںمیں پیدا کرتا ہے اور دوسرا بدی کی تحریک پیدا کرتا ہے پھر جو شخص ملائکہ اور ان کے اَظلال کی تحریک کو قبول کرتا ہے انعام کا مستحق ہوتا ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذرّیت کی تحریک کو قبول کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔انسان کے کامل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ اس کے سامنے دونوں قسم کی تحریکات پیش ہوں تا وہ اپنے فیصلہ سے ایک تحریک کو قبول کرے اور اعلیٰ انعامات کا وارث ہو اگر بدی کی تحریکات اس کے راستہ میں نہ آئیں تو وہ اعلیٰ انعامات کا مستحق نہیں بن سکتا۔لوگوں کا اپنی مرضی سے ابلیس کی پیروی کرنا ہاں ایک بات قرآن کریم نے واضح فرما دی ہے اور وہ یہ کہ ابلیس یا شیطان کسی کو بھی انسان پر تصرّف حاصل نہیں لوگ اپنی مرضی سے ان کی اتباع کریں تو کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ (الحجر:۴۳) یعنی اے ابلیس! میرے بندوں پر تجھے دلیل اور برہان کے ذریعہ سے غلبہ حاصل نہ ہو گا ہاں مگر جو سرکش لوگ تیرے متبع ہو جائیں گے انہیں تیری باتیں وزنی معلوم ہوںگی۔اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل میں بھی ابلیس کے متعلق فرمایا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا(بنی اسرائیل :۶۶) اے ابلیس! تجھے میرے بندوں پر دلائل اور براہین کے ذریعہ غلبہ حاصل نہ ہو گا اور تیرا رب ان کا کارساز ہو گا۔میں نے سُلْطَانٌ کے معنے دلیل اور برہان کے ذریعہ غلبہ کے کئے ہیں یہ معنی قرآن کریم سے ثابت ہیں۔سورۂ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَيِّنٍ (الکہف :۱۶) یعنی یہ ہماری قوم ہے جس نے خدا تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود اختیار کر لئے ہیں اگر یہ سچے ہیں تو کیوں ان کے بارہ میںکوئی کھلی دلیل پیش نہیں کرتے۔اسی طرح یہ لفظ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی واضح دلیل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے پس ابلیس کو خدا تعالیٰ کے بندوں کے خلاف کوئی سلطان حاصل نہ ہونے کے یہی معنے ہیں کہ ابلیس کا پلّہ دلیل کی وجہ سے کبھی بھاری نہ ہو گا بلکہ وہ جھوٹ اور خوف اور لالچ اور حرص کے ذریعہ سے لوگوں کو ورغلائے گا جیسا کہ فرماتا ہے۔وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا (بنی اسرائیل :۶۵) یعنی اے ابلیس! ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے اپنی آواز سے خوف دلا کر یا دھوکا دے کر اپنی طرف بلا اور اپنے سواروں اور پیادو ںکو ان پر چڑھالا اور ان کے مالوں اور اولادوں میں حصہ دار بن اور ان سے جھوٹے وعدے کر اور شیطان جو وعدے بھی کرتا ہے فریب دینے کے لئے ہی کرتا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس کے ورغلانے کا طریق یہ اَظلال کا وجود بھی پیدا کیا کہ ایک گروہ تو نیکی کی تحریک دلوںمیں پیدا کرتا ہے اور دوسرا بدی کی تحریک پیدا کرتا ہے پھر جو شخص ملائکہ اور ان کے اَظلال کی تحریک کو قبول کرتا ہے انعام کا مستحق ہوتا ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذرّیت کی تحریک کو قبول کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔انسان کے کامل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ اس کے سامنے دونوں قسم کی تحریکات پیش ہوں تا وہ اپنے فیصلہ سے ایک تحریک کو قبول کرے اور اعلیٰ انعامات کا وارث ہو اگر بدی کی تحریکات اس کے راستہ میں نہ آئیں تو وہ اعلیٰ انعامات کا مستحق نہیں بن سکتا۔لوگوں کا اپنی مرضی سے ابلیس کی پیروی کرنا ہاں ایک بات قرآن کریم نے واضح فرما دی ہے اور وہ یہ کہ ابلیس یا شیطان کسی کو بھی انسان پر تصرّف حاصل نہیں لوگ اپنی مرضی سے ان کی اتباع کریں تو کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ (الحجر:۴۳) یعنی اے ابلیس! میرے بندوں پر تجھے دلیل اور برہان کے ذریعہ سے غلبہ حاصل نہ ہو گا ہاں مگر جو سرکش لوگ تیرے متبع ہو جائیں گے انہیں تیری باتیں وزنی معلوم ہوںگی۔اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل میں بھی ابلیس کے متعلق فرمایا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا(بنی اسرائیل :۶۶) اے ابلیس! تجھے میرے بندوں پر دلائل اور براہین کے ذریعہ غلبہ حاصل نہ ہو گا اور تیرا رب ان کا کارساز ہو گا۔میں نے سُلْطَانٌ کے معنے دلیل اور برہان کے ذریعہ غلبہ کے کئے ہیں یہ معنی قرآن کریم سے ثابت ہیں۔سورۂ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَيِّنٍ (الکہف :۱۶) یعنی یہ ہماری قوم ہے جس نے خدا تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود اختیار کر لئے ہیں اگر یہ سچے ہیں تو کیوں ان کے بارہ میںکوئی کھلی دلیل پیش نہیں کرتے۔اسی طرح یہ لفظ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی واضح دلیل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے پس ابلیس کو خدا تعالیٰ کے بندوں کے خلاف کوئی سلطان حاصل نہ ہونے کے یہی معنے ہیں کہ ابلیس کا پلّہ دلیل کی وجہ سے کبھی بھاری نہ ہو گا بلکہ وہ جھوٹ اور خوف اور لالچ اور حرص کے ذریعہ سے لوگوں کو ورغلائے گا جیسا کہ فرماتا ہے۔وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا (بنی اسرائیل :۶۵) یعنی اے ابلیس! ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے اپنی آواز سے خوف دلا کر یا دھوکا دے کر اپنی طرف بلا اور اپنے سواروں اور پیادو ںکو ان پر چڑھالا اور ان کے مالوں اور اولادوں میں حصہ دار بن اور ان سے جھوٹے وعدے کر اور شیطان جو وعدے بھی کرتا ہے فریب دینے کے لئے ہی کرتا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس کے ورغلانے کا طریق یہ