تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 483
نہیں کہ وہ کوئی معقول دلیل دیتا ہے بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے اور جھوٹے وعدے دیتا ہے پھر جو لوگ اس خوف اور جھوٹ کی وجہ سے اس کا ساتھ دیتے ہیں ان کی مدد سے ان سے کم درجہ کے خراب لوگوںکو ڈرا دھمکا کر ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم کے رو سے ابلیس کی تحریکات کسی دلیل پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ خوف اور جھوٹے وعدوں پر مبنی ہوتی ہیں اس وجہ سے نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ نے ابلیس کو پیدا کر کے انسان کو گمراہ کیا ہے کیونکہ گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر تب لگ سکتا تھا اگر ابلیس کی تائید میں بھی اس نے کوئی علمی دلیل پیدا کی ہوتی۔دلیلیں سب ملائکہ کی تائید میں ہوتی ہیں پس جو لوگ ابلیس کی اتباع کرتے ہیں اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور اپنے عمل کے خود ذمہ وار ہوتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھناچاہیے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے رو سے لمّۂِ خیر یعنی نیکی کی تحریک کا پلّہ بھاری ہوتا ہے چنانچہ اس کی پہلی دلیل تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ملائکہ کے تابع قرار دیا ہے جو امر کہ اِلَّا اِبْلِیْسَ کے الفاظ سے ظاہر ہے سجدہ کا حکم ملائکہ کو دیا گیا تھا لیکن اس کی نافرمانی پر ابلیس کو بھی تنبیہ کی گئی ہے اور میں بتا چکا ہوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز ملائکہ کے تابع رکھی گئی ہے پس جو حکم ملائکہ کو دیا گیا اس میں ابلیس شامل تھا۔پس اِلَّا اِبْلِیْسَکہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اصل تحریک ملکی ہے اس سے انحراف کا نام ابلیسی تحریک ہوتا ہے جس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ملائکہ کو ابلیس پر غلبہ حاصل ہے۔دوسری دلیل اس امر کی یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے بار بار فطرتِ انسانی کے نیک ہونے کا اظہار فرمایا ہے ہاں بعد میں انسان خود اسے خراب کر دیتا یا اس کے والدین یا مربیّ اسے خراب کر دیتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا (الشمس:۸تا۱۱) یعنی ہم انسانی جان اور اس کی درستی اور تکمیل کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اس کے مکمل بنانے کے بعد جن باتوں سے اس کے اندر خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور جن امور سے اس میں نیکی پیدا ہو سکتی ہے ہم نے ان سے اسے خبردار کیا پس جو شخص اپنے نفس کو بیرونی اثرات سے پاک رکھتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے نفس کو مٹی میں ملا دیتا ہے ناکام ہو جاتا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ نفسِ انسانی کو پاک بنایا گیا ہے او ربُرے بھلے کی پرکھ کا مادہ اس میں رکھ دیا گیا ہے۔اس کے بعد انسان کا کام صرف اس قدر ہے کہ فطرت کے مطابق چلے اگر وہ ایسا کرے اور بیرونی اثرات کو جو فطرت کے خلاف ہوں قبول نہ کرے تو وہ نیکی میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے لیکن جو ایسا نہ کرے اور فطرت کے خلاف اثرات کو قبول کر کے اپنے پاک نفس کو گندگی