تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 481

ہے جو اپنے دوستوں سے تم کو ڈراتا ہے پس تم کفار سے مت ڈرو بلکہ اگر مومن ہو تو مجھ سے ڈرو۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہاں شیطان سے مراد کفار کے وہ ایجنٹ ہیں جو مسلمانو ںکو کفار سے مرعوب کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے چنانچہ سابق مفسرین نے بھی اس جگہ شیطان سے نعیم بن سعود یا ابو سفیان یا عام کفار مراد لئے ہیں جو مسلمانوں کو کفار کی طاقت سے ڈراتے تھے (فتح البیان۔ابن کثیر زیر آیت اٰل عمران:۱۷۵) اسی طرح قرآن کریم میں ہے وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ (الانعام :۱۱۳) یعنی اسی طرح ہم نے ہر نبی کا دشمن انسانوں میں سے شیطانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو بنایا ہے وہ آپس میں ایک دوسرے کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔شیطان اور ابلیس ہر دو کے الگ الگ وجود غرض شیطان کا لفظ قرآن کریم میں ارواحِ خبیثہ کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے جو دلوں میں وساوس ڈالتے ہیں اور انسانوں کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے لیکن ابلیس کا لفظ صرف اسی ہستی کی نسبت استعمال کیا گیا ہے جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا پس ابلیس سے مراد تو وہ رُوحِ خبیثہ ہے جو فرشتوں کے مدِّمقابل ہے اور دلوں میں وساوس ڈالتی ہے اور شیطان اسے بھی کہتے ہیں اور اس کے ان اَظلال کو بھی جو انسانوں میں سے اس جیسے کام کرتے ہیں۔ابلیس کو ابلیس اور شیطان یعنی دو ناموں سے یاد کئےجانےکی وجہ اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو دو ناموں سے یاد کیا ہے (۱) ابلیس اور (۲) شیطان۔حَلِّ لُغَات میںبیان کیا جا چکا ہے کہ ابلیس کے معنے مایوس اور حیران کے ہیں اور شیطان کے معنے حق سے دور ہونے والے یا حق سے دور کرنے والے کے اور جلنے والے کے ہیں۔پہلا نام اس وجود کا ابلیس رکھا گیا ہے اور دوسرا نام شیطان۔اس سے یہ نفسیاتی نکتہ نکلتا ہے کہ گمراہی اور ضلالت کا تغیرّ جب بھی انسان میں پیدا ہوتا ہے اس کے دو مدارج ہوتے ہیں پہلے مایوسی اور حیرانی یا دوسرے لفظوں میں جہالت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد حق سے دوری اور دوسروں کو گمراہ کرنے اور حسد کی حالت جو آگ میں جلنے کے مشابہ مرض ہے پیدا ہوتی ہے پس گناہ سے بچنے کے لئے انسان کو مایوسی اور جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے اگر مایوسی اور جہالت کو دنیا سے دُور کر دیا جائے تو گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے اور حسد کا فساد بھی خود بخود دور ہو جائے کیونکہ یہ دوسری حالت پہلی حالت کا نتیجہ ہے۔ملائکہ اور ابلیس اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو کیوں پیدا کیا۔کیا وہ اپنے بندوںکو خود گمراہ کرنا چاہتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کی مقدرت بخشی تو ساتھ ہی ملائکہ اور ابلیس اور ان کے