تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 480

اس کے وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی پر آمادہ ہوتے مگر قرآن کریم اس کا انکار فرماتا ہے اور فرماتا ہے فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ :۱۱۶) یعنی آدم علیہ السلام سے جو غلطی ہوئی وہ بھول سے ہوئی اور ہم نے اس میں اس غلطی کے ارتکاب کے متعلق کوئی ارادہ نہیں پایا۔ان دونوں امور کی تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ابلیس اور تھا اور وہ شیطان جس نے آدم علیہ السلام کو دھوکادیا اور تھا۔چونکہ آدم کو ابلیس سے بچنے کا حکم دیا تھا وہ اس کے ظلّ اور نمائندہ کو ابلیس کا نمائندہ سمجھنے میں غلطی کر گئے اور اسے دوسرا وجود سمجھ کر اس کے بارہ میں انہوں نے پوری ہوشیاری سے کام نہ لیا اور اس طرح غلطی کے مرتکب ہو گئے۔ان معنوں کا مؤیدّ وہ امتیاز ہے جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ قرآن کریم نے جہاں بھی سجدہ نہ کرنے کا ذکر کیا ہے وہاں ابلیس کا لفظ استعمال کیا ہے اور اسی وجود سے آدم کو ہوشیار کیا گیا ہے اور جہاں دھوکا دینے والے کا ذکر کیا ہے وہاں اسے شیطان کے نام سے یاد کیا ہے۔حقیقت جیسا کہ اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے یہ ہے کہ ابلیس تو اس وجود کا نام رکھا گیا ہے جو فرشتوں کے مقابل پر بدی کا محرّک ہے اور شیطان ایک عام نام ہے۔اس ابلیس کو بھی شیطان کہہ سکتے ہیں اور ان تمام لوگوں کو بھی جو ابلیس کے نائب کے طور پر اور اس کے ورغلائے ہوئے اس دنیا کے پردہ پر بدیوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور نبیو ںاور ان کی تعلیم کا مقابلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں کسی انسان کو ابلیس کے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔جہاں بھی ابلیس کا ذکر ہے فرشتوں کے مقابلہ کرنے والے وجود کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے یا بدی کی محرّک رُوح کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۂ شعراء اور سورۂ سباء کے مذکورہ بالا حوالوں میں گزر چکا ہے اس کے برخلاف شیطان کا لفظ مختلف ارواحِ خبیثہ کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے اور انسانوں کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے۔ارواحِ خبیثہ کے متعلق یہ لفظ بہت دفعہ استعمال ہوا ہے اور انسانوں کے متعلق اس کا استعمال بھی بہت ہے مگر نسبتاً کم ہے اور مندرجہ ذیل مثالوں سے ثابت ہے (۱) سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ (البقرة :۱۵) جب وہ اپنے شیطانوں کے ساتھ الگ جمع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اس آیت کے الفاظ سے یہ امر واضح ہے کہ یہاں شیاطین سے مراد اَئمہ کفر ہیں اور صحابہ نے بھی اس آیت میں شیاطین کے یہی معنی کئے ہیں (دیکھو آیت نمبر ۱۵ سورہ بقرہ) اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ لوگ مومنوں سے کہتے ہیں کہ کفار بڑی تعداد میں ان پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں پھر فرماتا ہے اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ(آل عمران :۱۷۶) یعنی یہ تو شیطان