تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 447
تفصیلات متعلقہ آیات کے نیچے اپنی اپنی جگہ بیان ہوںگی۔جدید فلسفہ سے متأثر نوجوانوں نے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا غلط اندازہ لگا کر ملائکہ کی نسبت یہ خیال پیدا کر لیا ہے کہ ملائکہ کا وجود چونکہ الوہیت کے منافی ہے اس لئے ملائکہ کا کوئی وجود نہیں ہے اور جو لوگ مذہب کے اثر سے ابھی تک پوری طرح آزاد نہیں ہوئے انھوں نے فرشتوں کے لفظ کی توجیہ کر کے اپنے نفس کو تسلی دے لی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ملائکہ سے مراد وہ نیک جذبات ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ان کا کوئی علیحدہ وجود نہیں۔ملائکہ کے وجود کو الوہیت کے منافی قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے نوجوان اللہ تعالیٰ کا نقشہ یہ کھینچتے ہیں کہ وہ ایک وراء الوریٰ ہستی ہے اور اوّل تو اس کا اس دنیا کے کاروبار سے کوئی تعلق ہی نہیں اس لئے اسے کسی واسطہ کی ضرور ت نہیں اور اگر اس کا کوئی تعلق ہے تو یہ یقین کرنا کہ وہ فرشتوں سے کام لیتا ہے اس کی قدرت کاملہ کے خلاف ہے اور اس کی صفات میں نقص پر دلالت کرتا ہے پس دونوں صورتوں میں فرشتوں کا وجود محال ہے۔اوّل الذکر عقیدہ کہ خدا تعالیٰ تو ہے مگر اس کا دنیا کے کاروبار میں کوئی دخل نہیں صرف ایک خوشکن پردہ ہے جو دہریت کے خیالات پر ڈالا گیا ہے۔در حقیقت اس عقیدہ اور دہریت میں کوئی فرق نہیں۔اگر خدا ہے بھی اور اس کا دنیا سے کوئی تعلق بھی نہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ ہے کیوں؟ خدا تعالیٰ کا وجود دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو وہ کوئی دخل دنیا کے نظام میں رکھتا ہے یا بے تعلق محض ہے اگر بے تعلق محض ہے تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں یا تو وہ ہمیشہ سے بے تعلق محض ہے یا دنیا کو پیدا کر کے بے تعلق ہو گیا۔اگر ہمیشہ سے بے تعلق محض ہے تو پھر اس کے وجود کا کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ بھی ثبوت نہیں پھر اس کے وجود کو تسلیم کرنے کے لئے نہ کوئی معنی ہیں نہ اس کی کوئی ضرورت ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کے ماننے والوں سے ایک منافقانہ ارتباط ظاہر کر کے ان کی خوشنودی اور ہمدردی حاصل کی جائے جو ایک نہایت ہی ذلیل مقصد ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے بے تعلق ہو گیا تو پھر اس کا بارِ ثبوت ان لوگوں پر ہے جو خدا تعالیٰ کو اس صورت میں پیش کرتے ہیں کیونکہ ایک فعال ہستی کو بے کار اور بے تعلق قرار دینے کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کو ہمیشہ فعاّل اور زندہ ماننے والے تو صرف اس کے اس فعل کے تسلسل کے قائل ہیں جس کو یہ دوسرے عقیدہ والے بھی مانتے ہیں لیکن اسے اب غیر فاعل اور عاجز قرار دینے والے اس کی فعاّلیت کو ایک وقت تک جاری قرار دے کر پھر بعد میں باطل اور ساکن قرار دیتے ہیں پس یہ بار ثبوت ان کے ذمہ ہے کہ وہ بتائیں کہ کس دلیل سے معلوم ہوا کہ پہلے تو وہ کوئی کام کرتا تھا لیکن بعد میں وہ اس کام سے علیحدہ ہو گیا اور اب بالکل بیکار اور دنیا سے بے تعلق بیٹھا ہے اور نظامِ عالم آپ ہی آپ چل رہا ہے۔