تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 446
کے ذریعہ سے ترقی کریں گے۔صدیوں کے تجربہ نے اس صداقت کو ثابت کر دیا ہے۔کاش وہ اب بھی اپنی ترقی کےگر کو سمجھ کر ایمان اور عملِ صالح کی طرف توجہ کریں۔دوسری قسم کی خلافت انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملی۔جبکہ اوّل حضرت ابوبکرؓ اور پھر حضرت عمرؓ اور پھر حضرت عثمانؓ اور پھر حضرت علیؓ یکے بعد دیگرے نعمتِ خلافت سے متمتع ہوئے اور ان کی اس نعمت سے تمام مسلمانوں نے حصہ پایا۔اگر بعد کے مسلمان اس نعمت کی قدر کرتے تو وہ صحابہ کی ترقی کی راہ پر گامزن رہتے اور آج اسلام کہیں کا کہیں پہنچا ہوا ہوتا لیکن افسوس انھوں نے اس نعمت کی بھی قدر نہ کی اور بادشاہت کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس شان کو کھو بیٹھے جو خلافت کے ذریعہ ان کو حاصل ہوئی تھی۔تیسری قسم کی خلافت جو تابع انبیاء کے ذریعہ حاصل ہوئی تھی اس کی طرف سے مسلمان ایسے غافل ہوئے کہ آخری زمانہ میں اس قسم کی نبوت کا سرے ہی سے انکار کر دیا اور بابِ نبوت کو خواہ غیر تشریعی ہی کیوں نہ ہو بند کر کے اس عظیم الشان فضل سے منکر ہو گئے جو اس زمانہ میں صرف اسلام سے ہی مخصوص تھا اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے کا ایک زبردست ثبوت تھا کیونکہ تابع کی نبوت متبوع کی نبوت اور شان کو بڑھاتی اور روشن کرتی ہے نہ کہ کم کرتی ہے۔جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے خلافت کا احیاء جماعتِ احمدیہکا ایمان ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے ذریعہ سے اس پرُ فتن زمانہ کی اصلاح اور اسلام کو دوبارہ اس کے مقام پر کھڑا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پھر اس تابع نبوت کا جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی شان کے مناسب حال امتی نبوت ہے دروازہ کھولا ہے اور آپ کے ذریعہ سے اس نے پھر آپ کے ماننے والوں میں خلافت کو بھی زندہ کر دیا ہے جس سے پھر ایک دفعہ ساری دنیا میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو ایک ہاتھ پر جمع ہو کر خدمتِ اسلام کر رہا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کے لئے رات دن جدوجہد کر رہا ہے اور وہ دن دُور نہیں جب پھر دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو گا اور کفر بھاگ جائے گا۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ(القمر:۴۶)۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ملائکہ اس آیت میں ملائکہ کا بھی ذکر آتا ہے پس ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ کے متعلق قرآنی تعلیم کو اجمالی طور پر بیان کر دیا جائے تا آئندہ جہاں جہاں ملائکہ کا ذکر آئے ان کے بارہ میں قرآنی نقطہ نگاہ سمجھنے میں آسانی ہو ہاں