تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 448
اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو اپنے امور کے لئے واسطہ بنانا اس کی قدرت کے منافی نہیں بہرحال دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی تسلیم کی جائے فرشتوں کا وجود محلِ اعتراض نہیں ٹھہرتا کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کسی وقت کوئی کام کرتا تھا۔تو سوال یہ ہے کہ اس وقت کوئی واسطہ وہ استعمال کرتا تھا یا نہیں؟ یعنی کیا ابتدائے آفرینش میں دنیا کے وجود میں آنے کا ذریعہ کوئی طبعی قواعد تھے یا جادو کے وہمی کرشموں کی طرح ہر تغیر بغیر کسی قانون یا ذریعہ کے ہو جاتا تھا؟ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس عالم کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ اس کے اند رکا ہر تغیر کسی قاعدہ کے ماتحت معلوم ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو وجود میں لانے کے لئے بعض و سائط بھی پیدا کئے تھے اور بعض قانون جاری کئے تھے جن کے ماتحت یہ عالم پیدا ہوا اور اس نے موجودہ صورت اختیار کی۔اگر یہ تسلیم کیا جائے اور اس کے تسلیم کرنے کے بغیر چارہ نہیں تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ فرشتوں کے وجود پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیونکہ جس طرح ایک وسیلہ اور واسطہ کا اختیار کرناخدا تعالیٰ کی قدرت کے منافی نہیں اسی طرح دوسرے وسیلے یا واسطے کا استعمال کرنا بھی اس کی قدرت کے منافی نہیں۔اسی طرح اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ خدا تعالیٰ اب بھی نظامِ عالم کے چلانے میں کوئی دخل رکھتا ہے تب بھی فرشتوں کے وجود پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر خدا تعالیٰ بچہ پیدا کرنے کے لئے انسانی نطفہ سے کام لیتا ہے۔حیوان کی پیاس بجھانے کے لئے پانی سے کام لیتا ہے۔دنیا کو روشن کرنے کے لئے سورج سے کام لیتا ہے اور اس کی قدرت پر کوئی حرف نہیں آتا۔تو نظامِ عالم کے جاری رکھنے کے لئے اگر اس نے فرشتوں کو بھی واسطہ بنایا ہو تو اس کی قدرت پر کیوں حرف آنے لگا۔اصل بات جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور قانونِ قدرت اس کی تصدیق کرتا ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت ِ کاملہ سے کارخانہ عالم کو ایک وسیع قانون کے ماتحت چلایا ہے قرآن کریم فرماتا ہے۔رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۔وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا (النازعات :۲۹،۳۰) یعنی آسمان کو دیکھو کہ ہم نے اس کی بلندی کو خوب بلند بنایا ہے اور پھر اسے تمام ضروری قوتیں اور کمالات دیئے ہیں اور اس کی قوتوں کو دو طرح کا بنایا ہے ایک مخفی جورات کی طرح پوشیدہ ہیں اور ایک ظاہر کہ دوپہر کی طرح روشن ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ نظامِ آسمانی ایک کامل قانون پر مبنی ہے جس میں سے کچھ مخفی ہے اور غور اور فکر اور تدبر سے اس کا علم ہوتا ہے اور کچھ ظاہر و روشن ہے کہ ظاہری آنکھ بھی اس کا مطالعہ کر سکتی ہے یہ دونوں قسم کے قانون۔قانونِ قدرت کا مطالعہ کرنے والوں پر روشن ہیں۔سورج اور چاند کو ہی لے لو کچھ اثرات ان کے ایسے واضح ہیں کہ جاہل اور ان پڑھ لوگ بھی ان سے