تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 433

دونوں سب کے سب چلے جائو۔ساری آیت یوں ہے۔قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَ لَا يَشْقٰى ( طٰہٰ :۱۲۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں سب کے سب چلے جائو پس جب تم سب کی طرف میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے وہ نہ گمراہ ہوں گے نہ دُکھ میں پڑیںگے۔ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ تم دونوں سے مراد آدم اور ان کی بیوی نہیں بلکہ آدم اور شیطان کی جماعتیں مراد ہیں کیونکہ اگر آدم اور ان کی بیوی دونوں مراد ہوتے تو اس کے بعد ’’تم سب‘‘ کے الفاظ استعمال نہ ہوتے۔’’تم سب‘‘ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ دونوں سے مراد دو فرد نہیں بلکہ دو جماعتیں ہیں پس یہ آیت میرے استدلال کے خلاف نہیں بلکہ اس کی تائید کرتی ہے۔پھر ہدایت کے ذکر میں بھی جمع کا لفظ استعمال کر کے اس امر کی اور وضاحت کر دی گئی ہے۔سورۂ حجر میں بھی آتا ہے کہ جب شیطان نے آدم کے خلافت پر مبعوث ہونے پر فرمانبرداری سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق زجر کی تو اس نے کہا کہ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ(الحجر:۴۰،۴۱) یعنی اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے آدم کی وجہ سے ہلاک کیا ہے میں ان سب کو زمین میں بُری باتیں خوبصورت کر کے دکھائوں گا اور ان سب کو ہلاک کروں گا سوائے ان کے جو ان میں سے تیرے مخلص بندے ہوں گے۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ شیطان اس وقت اپنے خلاف ایک جماعت کو پاتاتھا۔بیشک کہا جا سکتا ہے کہ اس سے شیطان کی مراد آدم کی اولاد سے ہے لیکن آدم کی اولاد تو دوسرے نمبر پر آئے گی پہلا ارادہ اس کا تو آدم اور اس کے ساتھیوں کے متعلق ہی ہو سکتا ہے پس جب وہ ایک جماعت کا ذکر کرتا ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایک جماعت موجود تھی۔کیا شیطان بشر کی نسل سے تھا شائد اس جگہ کسی کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ اوپر کی تشریح سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان بھی بشر کی نسل میں سے تھا حالانکہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ(الاعراف:۱۳) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔تجھے کس امر نے اس بات سے روکا کہ تو آدم کی فرمانبرداری کرے تو اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہترہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو پانی ملی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔اسی طرح ابلیس کی نسبت آتا ہے کہ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ (الکہف :۵۱) یعنی ابلیس جنوّں میں سے تھا تبھی اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور جنوں کی نسبت آتا ہے کہ وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (الرحمٰن:۱۶) اللہ تعالیٰ نے جنوّں کو آگ کے تیز شعلہ سے پیدا کیا ہے پس جبکہ انسان اورجن کی پیدائش میں فرق