تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 432

سب کے لئے اسی دنیا میں ایک وقت تک رہنا اور فائدہ اٹھانا ہو گا۔اس آیت میںجن لوگوں کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ایک جماعت ہے پس معلوم ہوا کہ آدم اور اس کی بیوی کے سوا اور اشخاص بھی اس وقت ان کے ساتھ رہتے تھے اگر کہا جائے کہ جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ شیطان بھی وہاں تھا تو بھی وہ استنباط باطل نہیں ہوتا جو اس آیت سے میں نے کیا ہے کیونکہ اگر شیطان کو اس حکم میں شامل کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ شیطان بھی آدم کی جنس میں سے تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدم کے ساتھ نکلنے والے سب کے سب اکٹھے اس زمین پر رہیں گے اور ایک دوسرے سے معاملات رکھیں گے۔پس اگر شیطان اس حکم میں شامل ہے تو وہ بھی جنس آدم سے قرار پاتا ہے اور اس طرح بھی آدم پہلا انسان قرار نہیں پا سکتا اور اگر شیطان کو اس حکم سے باہر رکھا جائے تو پھر آدم اور اس کی بیوی کے سوا اور انسانی وجودوں کو ماننا پڑے گا کیونکہ اس آیت میں دو سے زیادہ اشخاص کو نکلنے کا حکم دیا گیا ہے اور انسانوں کی ایک جماعت کے پائے جانے کا ثبوت ملتا ہے (میرا یہی خیال ہے کہ اس حکم میں شیطان بھی شامل ہے اور یہ کہ شیطان جس نے آدم کو دھوکا دیا اس وقت کے ان بشروں میں سے ایک بشر تھا جو آدم پر ایمان نہ لائے تھے اور ان کی شریعت کے جوئے کو اُٹھانے کے لئے تیار نہ تھے) اس کے بعد پھر اگلی آیت میں فرمایا ہے۔قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا١ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(البقرۃ:۳۹)اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ اس وقت بہت سے اور افراد بھی آدم علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے کیونکہ اس آیت میں پھر جمع کا صیغہ استعمال کیاگیا ہے بلکہ اس آیت سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کے سوا ایک جماعت تھی کیونکہ فرماتا ہے کہ اے جماعت! اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو یاد رکھو کہ جو میری ہدایت پر چلیں گے ان کو کوئی خوف یا حزن پیش نہ آئے گا۔ظاہر ہے کہ اس حکم کے مخاطب حضرت آدم علیہ السلام نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ تو خود وقت کے نبی تھے پس اس کے مخاطب ان کے ساتھی تھے جو قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق ایک جماعت کی حیثیت رکھتے تھے۔یہی الفاظ سورۂ اعراف میں بھی بیان ہوئے ہیں۔شاید اس جگہ کوئی کہے کہ سورہ طٰہٰع ۷ میں قَالَ اھْبِطَا مِنْہَا کے الفاظ آئے ہیں یعنی تم دونوں یہاں سے چلے جائو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف آدم اور ان کی بیوی کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کے ساتھ اس وقت کوئی اور آدمی نہ تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک سورۂ طٰہٰ میں اِهْبِطَا کے الفاظ آئے ہیں مگر ان کے آگے جَمِیْعًا کا لفظ بھی رکھا ہوا ہے۔اس لفظ کو ساتھ ملا کر ترجمہ کیا جائے تو ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس جنت سے تم