تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 434
ہے۔ایک طین سے پیدا ہوا ہے اور دوسرا آگ سے تو اِن دونوں کو ایک جنس کیونکر سمجھا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو قرآنِ کریم میں ابلیس اور شیطان میں فرق کیا گیا ہے جہاں کہیں آدمؑ کو سجدہ نہ کرنے کا ذکرہے وہاں ابلیس کا ذکر ہے اور جہاں کہیں آدمؑ کو ورغلانے کی کوشش کا ذکر ہے وہاں شیطان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔مثلاً انہیں آیات زیر تفسیر میں جہاں سجدہ کا ذکر ہے وہاں تو ابلیس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور جب آدم ؑ کو ورغلانے کا ذکر کیا ہے تو فرمایا فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا (البقرۃ:۳۷)یعنی پھر شیطان نے ان کو اِس حالت سے پھسلا دیا۔اسی طرح سورۂ اعراف کے رکوع ۲ میں اِس واقعہ کا ذکر ہے۔وہاں بھی جہاں سجدہ کے حکم کا ذکر ہے ابلیس کا لفظ استعمال کیا گیاہے لیکن جہاں ورغلانے کا ذکر ہے وہاں فرمایا ہے۔فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ (الاعراف:۲۱) پھر انہیں شیطان نے شک میں ڈال دیا۔تیسری سورۃ جہاں اس واقعہ کا ذکر ہے سورہ طٰہٰ ہے۔وہاں بھی جہاں کہ سجدہ نہ کرنے کا ذکر ہے وہاں ابلیس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن جہاں آدم کو شک میں ڈالنے کا ذکر ہے وہاں فرماتا ہے فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّيْطٰنُ شیطان نے آدمؑ کے دِل میں شک پیدا کر دیا۔( طٰہٰ :۱۲۱) ہر آیت میں دونوں مواقع پر الگ الگ الفاظ کا استعمال کرنا حکمت سے خالی نہیں۔قرآن کریم جو لفظ لفظ میں حکمت کو مدِّنظر رکھتا ہے ممکن ہی نہیں کہ اس فرق میں کہ ہر جگہ سجدہ کے ذکر میں ابلیس کا لفظ استعمال کرتاہے اور آدم کو ورغلانے کے ذکر میں شیطان کا لفظ استعمال کرتا ہے کوئی حکمت مدنظر نہ رکھتا ہو پس ضرور ہے کہ سجدہ سے انکار کرنے والا کوئی اور وجود ہو اور ورغلانے والا کوئی اور وجود ہو۔اسی وجہ سے ایک کا نام ابلیس بتایا گیا اور دوسرے کا شیطان۔پس اگر کوئی اس شبہ پر زور دے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناَر سے پیدا کرنے کا ذکر تو ابلیس کے متعلق ہے نہ کہ شیطان کے متعلق (میرے نزدیک جو اس فرق کی وجہ ہے آگے چل کر متعلقہ آیات کے ضمن میں بیان کی جائے گی) ابلیس کے آگ سے پیدا کئے جانے کا مطلب دوسرا جواب اور یہی اصلی جواب ہے یہ ہے کہ نار سے پیدا کرنے کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ ابلیس یا جنّ اس مادی آگ سے پیدا کئے گئے تھے بلکہ یہ ایک عربی کا محاورہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبیعت ناری تھی اور وہ اطاعت کی برداشت نہیں کر سکتا تھا چنانچہ یہ محاورہ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی استعمال ہوا ہے فرماتا ہے۔خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۠ (الانبیاء :۳۸) یعنی انسان کو ُعجلت سے پیدا کیا گیا ہے میں تم کو اپنی آیات دکھائوں گا پس جلدی نہ کرو۔اب یہ ظاہر ہے کہ اس آیت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ُعجلت اور جلدی کوئی مادہ ہے جس سے انسان کو بنایا گیا ہے بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ انسانی طبیعت جلد باز واقع ہوئی ہے وہ ہر کام کا نتیجہ جلدی دیکھنا چاہتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں