تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 431

رہی ہے کہ کلامِ الٰہی نطفہ سے پیدا ہونے والے انسانوں میں سے کسی ایک پر نازل ہوا تھا اور نطفہ سے پیدا ہونے والا انسان وہی ہو سکتا ہے جس کے ماں باپ موجود ہوں اور جس کے ماں باپ موجود ہو ںوہ پہلا انسان نہیں کہلا سکتا پس اس آیت کی روشنی میں پہلی نقل کردہ دونوں آیتوں کا یہی مطلب لینا پڑے گا کہ جس ابتدائی بشر کا ان میں ذکر کیا گیا ہے وہ آدم نہ تھا بلکہ اس کے آباء میں سے کوئی تھا اور فرشتوں کو جو سجدہ کا حکم دیا گیا تھا وہ اس ابتدائی بشر کے متعلق نہ تھا بلکہ اس کامل انسان کے متعلق تھا جس نے انسانی نسل کے دماغی ترقی کر جانے کے بعد سب سے پہلے کلام الٰہی سے مشرف ہونا تھا۔ان آیات کے علاوہ اور آیات بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم پہلے انسان نہ تھے بلکہ ان کے زمانہ میں اور لوگ بھی موجود تھے۔چنانچہ سورہ بقرہ کی ان آیات میں جو آیت زیر تفسیر کے بعد میں فرمایا گیا ہے۔وَ قُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ (البقرۃ:۳۶) اے آدم! تو اور تیرے ساتھی یا یہ کہ تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔اگر زوج کے معنے ساتھی کے لئے جائیں جو ُلغت کے لحاظ سے درست ہیں تو بھی اس کے یہ معنی بنتے ہیں کہ اس وقت آدم کے اور ہم جنس بھی موجود تھے اور اگر اس کے معنی بیوی کے لئے جائیں تو بھی اس کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت عورت اور مرد پیدا ہو چکے تھے کیونکہ اس جگہ کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جس سے معلوم ہو کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آدم کے لئے کوئی بیوی پیدا کی تھی بلکہ ایک امر واقعہ کے طو رپر اس کا ذکر ہے کہ تو اور تیری بیوی دونوں جنت میں رہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت پہلے سے موجود تھی اور عورت کو اس وقت پیدا نہیں کیا گیا تھا اگر اس وقت عورت کا وجود نہ تھا اور نئے سرے سے عورت بنائی گئی تھی تو چاہیے تھا کہ اس کا بھی ذکر کیا جاتا مگر قرآن کریم تو عورت کے وجود کو ایک تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر لیتا ہے اور آدم علیہ السلام کو اسی طرح اپنی بیوی سمیت جنت میں رہنے کا حکم دیتا ہے جس طرح کہ موجودہ زمانہ میں کسی مرد اور اس کی بیوی کے متعلق کو ئی حکم دیا جا سکتا ہے۔سورۂ اعراف آیت نمبر۲۰ میں بھی یہ حکم اس رنگ میں بیان ہوا ہے اور وہاں بھی بیوی کے پیدا کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔سورۂ طٰہٰ میں بھی بیوی کا ذکر ہے اور ان الفاظ میں ہوا ہے۔فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ (طٰہٰ :۱۱۸) اے آدم! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے یہاں بھی بیوی کا اس طرح ذکر ہے گویا کہ اس کا وجود عام قاعدہ کے مطابق تھا نہ کہ کسی معجزانہ رنگ میں اور اس کے خاص طور پر پیدا کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔اسی طرح آیت زیر تفسیر کے بعد لکھا ہے۔وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ (البقرۃ:۳۷) اور ہم نے کہا کہ یہاں سے چلے جائو۔تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تم