تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 414

خدا تعالیٰ کے متعلق قرآن مجید میں نفی کی صفات کا ذکر اور ان کا مطلب نفی کی صفات پر قرآن کریم میں بہت ہی کم زور ہے مثلاً آتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ (الشوریٰ :۱۲) اس جیسی اور کوئی شے نہیں یا آتا ہے لَا يَمُوْتُ (الفرقان :۵۹) وہ مرتا نہیں یا فرمایا ہے۔لَمْ يَلِدْ (الاخلاص:۴) اس نے کسی کو جنا نہیں یا فرمایا کہلَمْ يُوْلَدْ (الاخلاص:۴) وہ کسی کے ہاں پیدا نہیں ہوا۔یا فرمایا وَ هُوَ يُطْعِمُ وَ لَا يُطْعَمُ (الانعام :۱۵) وہ دوسروں کو کھلاتا ہے پر اُسے کوئی نہیں کھلاتا۔یا فرمایا۔لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ (البقرة :۲۵۶) اسے اونگھ یا نیند نہیں آتی۔ان صفات کو بھی اگر دیکھا جائے تو سوائے لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌکیآیت کے باقی سب خدا تعالیٰ کی شان کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ مشرکانہ عقائد کے ردّ کے لئے بیان ہوئی ہیں چونکہ مسیحی لوگ اور اسی قسم کے اور مشرک لوگ بعض انسانوں کو خدا تعالیٰ کی صفات سے متصف بتاتے تھے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ معبود انِ باطلہ تو کھانا بھی کھاتے تھے اور ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے اور آگے انہوں نے بیویاں کیں اور ان کے ہاں اولادیں پیدا ہوئیں اور وہ سوتے بھی تھے تھک کر اونگھتے بھی تھے مگر اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک ہے۔پس ان صفات کا ذکر اس قدر اللہ تعالیٰ کے وجود کے سمجھانے کے لئے نہیں جس قدر کہ معبود انِ باطلہ کی اُلوہیت کو باطل کرنے کے لئے ہے۔اب رہا لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌکا عقیدہ سو یہ بھی خالص سلبی نہیں یعنی اس میں یہ بتانا مقصود نہیں کہ وہ جو دوسروں جیسا نہ ہو خدا ہوتا ہے بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ انسانی فہم کے قریب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی جو ایجابی صفات بیان کی گئی ہیں ان سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ اپنی حقیقت میں وہ انسانی صفات سے ملتی ہیں بلکہ ان کا استعمال صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ وہ حقیقت میں انسانی صفات سے بالکل مختلف ہیں مثلاً یہ جو آتا ہے کہ خدا تعالیٰ بولتا ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی بھی زبان ہے، تاَلوُ ہے، َحلق ہے، ہونٹ ہیں اور دانت ہیں جن کی مدد سے وہ آواز نکالتا ہے بلکہ جب بولنے کا لفظ بولا جائے تو اس سے صرف یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عندیہ کو دوسری مخلوق پر الفاظ پیدا کر کے یا دل میں خیال پیدا کر کے ظاہر کر دیتا ہے یہی حال اس کے سننے اور دیکھنے کا ہے۔ان الفاظ کے استعمال سے بھی یہ مراد نہیں کہ اس کے کان ہیں یا آنکھیں ہیںبلکہ محض یہ مراد ہے کہ وہ مخلوق کی خواہشات اور پکار کو معلوم کرتا اور ان کے حالات کو معلوم کرتا ہے پس لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ کا جملہ بھی اس قدر صفات سلبیہ پر دلالت نہیں کرتا جس قدر کہ صفاتِ حقیقیہّ کی تاکید اور تشریح کرتا ہے۔نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ میں اس طرف اشارہ کہ کامل عرفان والے صفاتِ حقیقیہ مثبتہ سے اللہ کا عرفان حاصل کرتے ہیں خلاصہ یہ کہ ملائکہ کایہ فقرہ بیان کر کے کہنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ