تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 413

ہو گا لیکن چونکہ یہ بات خدا تعالیٰ اپنے کلام کے ذریعہ سے آئندہ انسانو ںپر بھی ظاہر کرنے والا تھا اس لئے اس نے ان کو تفصیلی جواب بھی دیا جو اگلی آیات میں مذکور ہے۔دوسری الہامی کتب کے خلاف قرآن مجید میں تسبیح کے ساتھ تحمید اور تقدیس کا ذکر کرنے کی وجہ اس جگہ ایک او رنکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی صفت تسبیح کے ساتھ تحمید اور تقدیس کا بھی ذکر کرتا ہے جو امر اسے دوسری کتب سے ممتاز کرتا ہے۔تسبیح میں صرف تنزیہ آتی ہے یعنی اس کے نقصوں سے پاک ہونے کا ذکر آتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قدر بیان صفاتِ الٰہیہ کا اعلیٰ درجہ کے متفکرّ انسان کے لئے کافی نہیں۔کامل دماغ کے لئے صفاتِ تنزیہیہ کے ساتھ صفاتِ حقیقیہ ُمثبتہ کا اظہار بھی ضروری ہے ہم اگر کسی شے کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسی بھی نہیں اور ویسی بھی نہیں تو بے شک اسے انسانی دماغ کے قریب توکر دیتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو پوری طرح واضح نہیں کرتے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ کہیں کہ وہ مادہ نہیں۔اسے بھوک نہیں لگتی ،پیاس نہیں لگتی، وہ مرتا نہیں، وہ سوتا نہیں، وہ طبعی خواہشات کا شکار نہیں تو اس سے یہ تو ضرور ہوتا ہے کہ سننے والے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ دوسری مادی اشیاء سے کسی قدر مختلف ہے لیکن اس کی شان کا کما حقہ اظہار نہیںہوتا اور یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ ہے کیا؟ قرآن مجید سے پہلی کتب میں صرف تسبیح پر زور دینے کی وجہ ابتدائی مذاہب میں چونکہ اس وقت انسانی دماغ کا نشوونما اچھی طرح نہ ہوا تھا تسبیح پر زیادہ زور تھا اور حمد اور تقدیس کا پہلو بہت کمزور تھا مثلاً ہندو مذہب ہی کو لے لو اس میں اللہ تعالیٰ کے وجود کو نفی کے ذریعہ سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نظر نہیں آتا، وہ کسی جگہ میں سماتا نہیں، اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ،اسے خواہش کوئی نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔بدھ مذہب کے موجودہ لٹریچر میں خدا تعالیٰ کی تعلیم کسی معیّن صورت میں تو پائی نہیں جاتی مگر انسانِ کامل جو خدا تعالیٰ کی مادی تصویر ہے اس کا نقشہ اسی طرح کھینچا گیا ہے کہ اس کے دل میں کوئی خواہش نہیں ہوتی سب خواہشات سے وہ آزاد ہوتا ہے حالانکہ خواہشات سے آزاد ہونا صرف تنزیہی صفت ہے اس میں کسی کمال کا اظہار نہیں۔یہودی مذہب میں ایک حد تک صفات الٰہیہ کے مثبت پہلو کا بھی ذکر ہے مگر اس قدر نہیں جس قدر کہ قرآن کریم میں ہے۔ان صفات حمد اور تقدیس کو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور جس رنگ میں بیان ہوئی ہیں اگر بائبل کے بالمقابل رکھا جائے تو بائبل کا بیان بالکل پھیکا پڑ جاتا ہے غرض قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس نے تسبیح کے ساتھ تحمید پر زور دیا ہے اور خدا تعالیٰ کو نفی کے ساتھ روشناس نہیں کرایا بلکہ اس کی صفات حمد اور تقدیس پر خاص زور دیا ہے۔