تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 415
اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کامل عرفان والے وجود صفاتِ سلبیہّ سے خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھتے بلکہ اس کی صفات حقیقیہ ُمثبتہ سے اس کا عرفان حاصل کرتے ہیں اور نیز اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم جو صفات حقیقیہ پر زور دیتا ہے ایسے ملکوتی وجود پیدا کرے گا جو تسبیح کے ساتھ حمد اور تقدیس پر بھی زور دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کو اس کی ان صفات کے ذریعہ بندوں کے قریب کریں گے جو اس کی قدرتوں کے ظہور سے تعلق رکھتی ہیں اور صرف نفی پر بحث کر کے اسے ایک وراء الوراء اور بندوں سے بے تعلق ہستی ثابت نہیں کریں گے۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق صفاتِ اِیجابیہّ پر غور اور ان سے فائدہ اُٹھانے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جو صرف تسبیح کرتا ہے وہ صرف اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک بالاہستی ہے مگر جو اس کی تحمید کرتا ہے وہ اسے ایک زندہ اور فعاّل خدا ثابت کرتا ہے اور اس کی صفات سے خود فائدہ اُٹھاتا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔قرآن مجید میں سَبِّحْکے ساتھ لفظ حـمد کا استعمال یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم میں سَبِّحْ امر کا صیغہ سترہ دفعہ استعمال ہوا ہے اور اس میں سے آٹھ جگہ اس کے ساتھ بِحَمْدِ رَبِّکَ یا بِحَمْدِہٖ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی حجر ع۶ نصر ع۱ طٰہٰ ع۸ مومن ع۶ ق ع۳ طور ع۲ سجدہ ع۲ میں۔باقی نو جگہیں رہ جاتی ہیں جہاں یہ امر بغیر حمد کے لفظ کے استعمال ہوا ہے ان میں سے ایک تو طٰہٰ ع ۸ میں ہے مگر یہ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ کے بعد استعمال ہوا ہے اور ساری آیت یُوں ہے وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى ( طٰہٰ :۱۳۱)یعنی تسبیح کر اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے دونوں سروں پر بھی تسبیح کر اور دن کی دونوں طرفوں میں بھی تسبیح کرتا کہ تو خدا تعالیٰ کے انعام پا کر اس سے راضی ہو جائے۔اس آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ دوسرا سَبِّحْ جو خالی آیا ہے پہلے مضمون کی تکرار ہے اور اس میں بِحَمْدِکَ کا حکم شامل ہے خالی تسبیح مراد نہیں۔دوسری اور تیسری آیات جن میں خالی تسبیح کا لفظ استعمال ہوا ہے سورہ ق اور سورہ طور کی ہیں ان میں بھی پہلی آیت کی طرح یہ لفظ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کے بعد اور اس کے تابع کے طور پر استعمال ہوا ہے اور بِحَمْدِکَ کا مفہوم اس میں شامل ہے۔چوتھی آیت جس میں سَبِّحْ کا لفظ بغیر حمد کے استعمال ہوا ہے سورۂ دَھر کی آیت ہے جو یوں ہے وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۔وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا۔(الدھر:۲۷) یعنی اپنے رب کا نام صبح شام