تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 402

آدم کے واقعہ میں فرشتوں کے مکالمہ کو ذکر کرنے سے نبی کے وقت کے لوگوں کو ایک نصیحت غرض آدم کے واقعہ کے ذکر میں فرشتوں کے مکالمہ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بد اور ادنیٰ لوگ تو الگ رہے نیک اور ملائکہ صفت لوگ بھی نبی کے نزول کے وقت اس انقلاب عظیم کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے جو اس کے ذریعہ سے ہونے والا ہے پس شرافت یہ ہے کہ انسان اگر مان نہیں سکتا تو کم سے کم قبل ازوقت مخالفت تو نہ کرے اور اس دن کا انتظار کرے جب وہ اپنا کام کر چکے۔اگر وہ سچا ہے تو خود ہی اس کے کام سے اس کی سچائی ظاہر ہو جائے گی اور اگر جھوٹا ہے تو اس کا کام اس کے جھوٹا ہونے کا شاہد ہو گا۔ایک دوسری جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرعون کی قوم کے ایک فرد کی زبانی اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے وَ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ (المومن :۲۹) یعنی اگر موسیٰ جھوٹے ہیں تو تم کو جوش دکھانے کی کیا وجہ ہے خود ہی ان کا جھوٹ ان کو تباہ کر دے گا اور اگر سچے ہیں تو اس مخالفت کی وجہ سے تم کو خدا تعالیٰ کا عذاب پکڑ لے گا۔حضرت آدم کے ذکر کے ساتھ ملائکہ کا ذکر کرنے کی ایک خاص وجہ ایک دوسری غرض اس جگہ ملائکہ کا ذکر کرنے کی یہ ہے کہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے اور سب مذاہب اس کے کسی نہ کسی رنگ میں مصدق ہیں کہ اس دنیا کا کارخانہ ملائکہ کے تو ّسط سے چلایا جاتا ہے۔مختلف ملائکہ دنیا کے مختلف کاموں پر مقرر ہیں۔کوئی موت کا فرشتہ ہے کوئی سیاروںکی گردش وغیرہ کا نگران ہے اور کسی کے سپرد نظامِ عالم میں بارش کا انتظام ہے۔اس کی تفصیل آگے آئے گی۔اس جگہ پر اسی قدر ذکر کافی ہے پس فرشتو ںکو آدم کے خلیفہ بنانے کی خبر دینے سے اور انہیں اس کی پیدائش پر سجدہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ جب کوئی نبی دنیا میں ظاہر ہوتا ہے ملائکہ کو جو نظام ِعالم کے مدبر ّہیں اس کی مدد کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اس لئے باوجود سب دنیا کی مخالفت کے نبی جیتتا ہے کیونکہ سب نظام عالم بوجہ اس کے کہ نظام کے مدبرّوں کو اس کی تائید کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کی تائید میں ہوتا ہے چنانچہ انبیاء کی زندگی میں اس کی ناقابلِ انکار مثالیں پائی جاتی ہیں۔طوفان کے وقت حضرت نوحؑ کا محفوظ رہنا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دشمنوں کا آگ میں ڈالنے کی کوشش کرنا لیکن باوجود کوشش کے آگ کا نہ جلنا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سمندر میں سے گزرنے کے وقت ان کی قوم کا بچ جانا لیکن فرعون کی فوج کے سمندر میں داخل ہوتے ہی طوفان کا آ جانا اور پانی کا زمین پر چڑھ جانا اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کے وقت آندھی کا آنا اور یہود کے عقیدہ کے مطابق کہ سبت کے دن کوئی شخص صلیب پر نہ لٹکا رہے۔ان کا چند گھنٹوںمیں صلیب