تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 401
ہے جو اُذْکُرُوْا ہے یعنی یاد کرو جس کا استدلال اِذْ کے لفظ سے ہوتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے لوگو !آدم کے واقعہ کو یاد کرو کہ اس کی پیدائش کے وقت خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے اِس اِس طرح کلام کیا تھا۔فرشتوں کے اس مکالمہ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ نبی کی بعثت سے پہلے اس کی ضرورت لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا کرتی کیونکہ نبی کا وجود خدا تعالیٰ کے غیبو ںمیں سے ایک غیب ہوتا ہے۔اس کی ضرورت ُکلیّ طور پر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ ظاہر ہو کر اپنا کام پورا کر لیتا ہے تب ان تغیرّات کی وجہ سے جو اس کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے ہیں لوگوں کو ماننا پڑتا ہے کہ اگر وہ ظاہر نہ ہوتا تو دنیا ایک عظیم الشان اور مفید انقلاب سے محروم رہ جاتی۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو عظیم الشان انقلابات پیدا کرنیو الے ہیں ان کا اندازہ اسی وقت ہو سکے گا جبکہ وہ اپنی خدا داد قابلیتوں کو ظاہر کر چکیں گے۔اس سے پہلے ان انقلابات کا تصور بھی لوگوں کے لئے مشکل ہے۔جس بات کو خدا تعالیٰ کے مقرب فرشتے بھی نہ سمجھ سکیں جاہل انسانوں نے اسے کیا سمجھنا ہے؟ پس چاہیے کہ انتظار کرو اور اس کے کام کے نتیجہ کو دیکھو اور انکار میں جلدی نہ کرو۔اس مضمون کو دوسری جگہ پر قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ(النحل :۲،۳) یعنی خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ تغیرّات کا زمانہ نزدیک آ پہنچا ہے۔پس اسے جلد دیکھنے کی خواہش نہ کرو کہ و ہ اپنے وقت میں ظاہر ہو گا اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے اور لوگوں کے شرک سے بہت بلند ہے۔حضرت آدم کی بعثت پر فرشتوں کے مکالمہ کا مطلب خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ملائکہ کو اپنا کلام دے کر اپنے پسندیدہ بندو ںپر نازل کیا کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ لوگوں کو ہوشیار کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں پس میرا تقویٰ اختیار کریں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انبیاء خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے اور اس کی طرف لوگوں کو لانے کے لئے آتے ہیں مگر اس وقت کے لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ وہ اس مقصد میں جو بظاہر بالکل خلاف عقل نظر آتا ہے کامیاب ہوں گے مگر آخر وہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور دنیا حیران رہ جاتی ہے او رپھر ایک دفعہ دنیا پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے اور توحید کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کا دعویٰ کیا کون کہہ سکتا تھا کہ آپؐ عرب سے ہی نہیں بلکہ سب دنیا سے شرک کو بیخ و بنیاد سے اُکھاڑ کر پھینک دیں گے۔دعویٰ کی ابتدا میں یہ بات کسی کی سمجھ میں نہ آ سکتی تھی مگر جب آپؐ نے یہ کام ختم کر لیا تو ہر اک کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ انقلاب پیدا ہو گیا۔