تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 403

پر سے اُتار لیا جانا اور صلیبی موت سے محفوظ رہنا۔رام چندر جی کا باوجود اکیلے ہونے اور دشمنوں کے نرغے میں ِگھرے ہوئے ہونے کے رَاوَن پر فتح پانا۔کرشن جی کا زبردست دشمنوں کے مقابلہ پر جبکہ ان کے ساتھی جی چھوڑ رہے تھے فتح پانا۔زردشت کا زبردست مخالفتوں کے باوجود کامیاب ہونا اور ان سب سے آخر لیکن شان کے لحاظ سے سب سے شاندار طو رپر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تنِ تنہا سارے عرب کا مقابلہ کرنا اور غیر معمولی سامانوں سے فتح پانا یہ سب ایسے واقعات ہیں کہ کوئی اندھا ہی ان کے غیر معمولی ہونے سے انکار کر سکتا ہے اور یہ سب واقعات اس امر پر شہادت ہیں کہ جب کوئی نبی دنیا میں مبعوث ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نظام ِعالم کو اس کی تائید میں لگا دیتا ہے اور چونکہ نظامِ عالم ملائکہ کے ماتحت ہے اللہ تعالیٰ نبی کے مبعوث کرنے سے پہلے انہیں اپنے ارادہ سے مطلع کر دیتا ہے۔آدم کی بعثت پر ملائکہ کو اس کی مدد کا حکم اور اسی کی طرف وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً کے الفاظ میں اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ آدم کی بعثت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اس کی بعثت کے بارہ میں اطلاع دے دی تھی اور وہ اس کی تائید میں لگ گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے دشمن باوجود عارضی طور پر ان کے مقابلہ میں کامیاب ہو جانے کے آخر ناکام رہے۔اور آدم علیہ السلام اس مقصد میں کامیاب ہو گئے جس کے پورا کرنے کے لئے انہیں مبعوث کیا گیا تھا اور ساتھ ہی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس وقت بھی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں ملائکہ کو لگا دیا گیا ہے جو دنیا میں ایسے تغیرات پیدا کریںگے جن کی وجہ سے باوجود شدید مخالفت کے اور دشمنوں کے قوی ہونے کے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر کامیاب ہو کر رہیں گے۔حضرت آدم علیہ السلام کی جنّت اسی دنیا کی جنّت تھی اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم کو اسی دنیا میں پیدا کیا گیا تھا او رجو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں اُسی جنت میں رکھا گیا تھا جو مرنے کے بعد انسان کو ملنے والی ہے وہ غلطی پر ہیں۔تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں اس زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں لیکن بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں جنت میں رکھا گیا تھا۔اس مشکل کو بعض لوگوں نے بزعم خود اس طرح حل کیا ہے کہ پہلے اسی دنیا میں پیدا کیا پھر ان کو جنت میں لے جایا گیا لیکن یہ آیت اس توجیہ کی بھی اجازت نہیں دیتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً میں اسی دنیا میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ دنیا میں خلیفہ کے مقرر کرنے کی کوئی غرض ہو گی پھر اسے جنت میں لے جانے سے وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی تھی؟ یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک خاص مقصد کے لئے آدمؑ کو اس دنیا میں خلیفہ مقرر کرے اور پھر اسے جنت