تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 400
سورۂ انعام میں ہے وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ الْاَرْضِ (الانعام:۱۶۶) اور سورۃ فاطر میں ہے۔هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ (فاطر:۴۰) اور سورئہ یونس میں ہے ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ(یونس:۱۵)اور پھر سورئہ یونس میں ہے وَجَعَلْنٰھُمْخَلٰٓىِٕفَ (یونس:۷۴) اسی طرح سورئہ اعراف میں دو جگہ ہے وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ (الاعراف :۷۰،۷۵) پھر سورۂ نمل میں ہے وَ يَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ(النمل:۶۳) ان حوالوں سے ثابت ہے کہ قرآن کریم نے جب کسی قوم کے خلیفہ ہونے کا ذکر کیا ہے جمع کے لفظ سے کیا ہے اس لئے کہ قوم بہت سے افراد پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر فرد اپنی قسم کے فرد کا خلیفہ ہوتا ہے۔پس جب تک کوئی خاص غرض نہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے لئے مفرد لفظ کا استعمال ہو۔اس کے برخلاف قرآن کریم میں جہاں ایک شخص کے خلیفہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں لفظ خلیفہ مفرد استعمال کیا ہے مثلاً حضرت دائود کی نسبت آتا ہے اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ (ص :۲۷) پس ان حوالہ جات سے یہی استنباط ہوتا ہے کہ آیت زیر تفسیر میں بھی خلیفہ سے مراد حضرت آدم ہیں نہ کہ بنی نوع انسان۔اب رہا یہ سوال کہ اگر خلیفہ سے اس جگہ مراد حضرت آدم ہیں تو پھر فرشتوں نے یہ کیوں کہا کہ وہ فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔سو اس کا جواب آیت کے اس ٹکڑا کے ماتحت دیا جائے گا۔آیت اِنِّيْ جَاعِلٌ الخ کا تعلق پہلی آیات سے اب میں آیت کی تفسیر بیان کرتا ہوں۔اس آیت کا تعلق پہلی آیات سے یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کے شروع میں قرآن کریم کی نسبت یہ دعویٰ کیاگیا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو دنیا کی ہدایت کے لئے آیا ہے۔اس دعویٰ پر چونکہ کفار کو اعتراض تھا جیسا کہ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا (البقرة:۲۴) کی آیت میں بتایا گیا تھا۔اس کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم کو پیش کرتا ہے تا یہ بتائے کہ الہام الٰہی کا نزول کوئی نئی شے نہیں بلکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا چلا آیا ہے چنانچہ سب سے پہلا انسان آدم تھا اور اس کی پیدائش کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کا الہام نازل ہوا پس الہام اور وحی پر شبہ کرناکوئی معقول بات نہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ابتدائِ آفرینش میں الہام اور وحی نازل کی تو اب کیوں نہ کرے؟ غرض وحی کے ابتدائِ آفرینش سے متواتر نازل ہونے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے اور یہ وہ دلیل ہے جو سب مذاہب کے ماننے والوں پر حجت ہے کیونکہ تمام مذاہب کیا ہندو، کیا زردشتی اور کیا یہود و نصاریٰ ابتدائِ آفرینش میں وحی کے نزول کے مصدق ہیں پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے ذکر کے بعد آدم اور اس کی وحی کو پیش کیا تا بتائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ شروع