تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 399
میں بعض نے اس آیت کی یہ قرا ء ت بھی نقل کی ہے کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً یعنی میں زمین میں ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہوں (عن زید ابن علی۔قرطبی زیر آیت ھٰذا) اور بعض نے اس خیال کی بنیاد قرآن کریم کی اس آیت پر رکھی ہے۔هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ (فاطر:۴۰) خدا ہی ہے جس نے تم کو دنیا میں ایک دوسرے کے بعد اس کی جگہ لینے والا بنایا ہے قتادہ نے بھی یہی مراد لی ہے کہ اس جگہ خلیفہ سے مراد نسل انسانی ہے وہ کہتے ہیں فَکَانَ فِیْ عِلْمِ اللّٰہِ اَنَّہٗ تَکُوْنَ فِیْ تِلْکَ الْخَلِیْفَۃِ اَنْبِیَآءُ وَ رُسُلٌ وَ قَوْمٌ صَالِحُوْنَ وَسَاکِنُوا الْجَنَّۃِ (ابن کثیر) یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس خلیفہ کے وجود میں نبی بھی ہوں گے اور رسول بھی اور صلحاء کی جماعت بھی اور جنت کے بسنے والے بھی۔اس فقرے سے ظاہر ہے کہ قتادہ کے نزدیک خلیفہ سے آدم کے وجود کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی نسل کے کاملین کی طرف۔یہ قائلین اپنے دعویٰ کی تائید میں اس بات سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ فرشتوں نے جو یہ کہا ہے کہ کیا تو اسے پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا یہ بتاتا ہے کہ خلیفہ سے مراد آدم نہیں بلکہ بنی نوع انسان ہیں کیونکہ آدم نے نہ خون بہانا تھا اور نہ فساد کرنا تھا۔(ابن کثیر) آیت اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً میں خلیفہ سے مراد بعض نے کہا ہے کہ خلیفہ سے مراد آدم ہیں کیونکہ خلیفہ اسے کہتے ہیں کہ جو کسی کی نیابت میں احکام و اوامر کو جاری کرے پس چونکہ آدم خدا تعالیٰ کے نبی ہونے والے تھے اور اس کے احکام کو دنیا میں جاری کرنے والے تھے ان کا نام خلیفہ رکھا گیا۔میرے نزدیک بھی خلیفہ کا لفظ اسی لئے استعمال ہوا ہے کہ آدم خدا تعالیٰ کے احکام و مناہی کو دنیا میں جاری کرنے والے تھے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب دنیا میں خدا تعالیٰ کا ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔یہ کہنا کہ آدم سے پہلے فرشتے دنیا پر رہتے تھے ایک بے ثبوت قول ہے اور یہ کہ جِنّ پہلے رہتے تھے جو بشر کے سوا کوئی اور مخلوق تھی ویسا ہی بے ثبوت قول ہے اور اس کی وجہ سے آدم یا اس کی نسل کو خلیفہ کہنا بھی بے معنی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کب سے چلی آ رہی ہے اگر خلیفہ کے لفظ سے بعد میں آنے والی کسی دوسری جنس کی مخلوق مراد لی جائے تو ہر مخلوق ہی خلیفہ کہلانی چاہیے کیونکہ وہ اپنے سے پہلے کسی او رمخلوق کی قائم مقام ہو گی کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفت خلق کی نسبت نہیں کہا جا سکتا کہ صرف چند ہزار سال یا چند لاکھ سے جاری ہوئی ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا۔خلیفہ سے مراد بنی نوع انسان نہیں بلکہ آدم ہیں میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں کہ خلیفہ سے مراد اس جگہ آدم کی ذرّیت ہے کیونکہ قرآنِ کریم میں جہاں قوموں کی نسبت خلیفہ کا لفظ آیا ہے جمع کی شکل میں آیا ہے چنانچہ