تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 32

جس سے دو امر ثابت ہوتے ہیں۔اوّل خدا تعالیٰ کے ِسوا ہر شے مخلوق ہے کیونکہ جو چیز ترقی کرتی اور تغیرّ پکڑتی ہے وہ آپ ہی آپ نہیں ہو سکتی۔آیت ھٰذا میں مسئلہ ارتقاء کے درست ہونے کی طرف اشارہ دوسرے ارتقاء کا مسئلہ درست ہے۔ہر شےادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف گئی ہے خواہ انسان ہوںخواہ حیوان۔خواہ نباتات ہوں خواہ جمادات۔کیونکہ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جا کر اللہ تعالیٰ کمال تک پہنچاتا ہے پس ثابت ہوا کہ ارتقاء کا مسئلہ دُنیا کی ہرشے میں جاری ہے (۷) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتقاء مختلف وقتوں اور مدارج (STAGES) میں حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ ربّ کے معنی ہیں۔اِنْشَائُ الشَّیْ ئِ حَالًافَـحَالًا اِلٰی حَدِّ التَّـمَامِ چیز کو مختلف وقتوں اور مختلف درجو ںمیں ترقی دے کر کمال تک پہنچانا (نہ کہ ایک ہی کڑی کو مکمل کرنا)۔(۸) یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتقاء اللہ تعالیٰ کے وجود کے منافی نہیں۔کیونکہ فرمایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ارتقاء کے ذریعہ سے پیدائش خدا تعالیٰ کے عقیدہ کے خلاف نہیں پڑتی۔بلکہ اس سے وہ حمد کا مستحق ثابت ہوتا ہے۔اسی لئے رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے الفاظ استعمال فرمائے۔(۹) انسان لامتناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کو لامتناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔کیونکہ فرماتا ہے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے کہ وہ مختلف انواع و اقسام کی مخلوق کو ادنیٰ حالت سے اُٹھا کر اعلیٰ تک پہنچاتا ہے اور یہ مضمون صحیح نہیں ہو سکتا جب تک ہر مقام اور درجہ سے اوپر کوئی اور درجہ تسلیم نہ کیا جائے۔(۱۰) سب سے آخر میں یہ کہ اس سورۃ کو جو سب سے پہلی سورۃ ہے اور قرآن کریم کے مطالب کا خلاصہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَسے شروع کر کے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل حمد اب شروع ہو گی کیونکہ اسلام جو رَبُّ الْعَالَمِیْن کی صفت کا کامل مظہر ہے سب دنیا کی طرف آیا ہے اور جسمانی عالم کی طرح روحانی عالم میں بھی اتحاد پیدا کر دیا گیا ہے پہلے جب مختلف اقوام کی طرف الگ رسول آتے تھے بعض نادان متبع دوسرے انبیاء کی تعلیم کو غلط سمجھ کر ان کی تردید کرتے تھے۔ہندو کہتے ہم یہووا کو نہیں جانتے پر میشور کو جانتے ہیں یہود پر میشور پر ہنسی اُڑاتے۔لیکن اسلام کے ظہور سے سب دنیا کے لئے ایک دین ہو گیا۔اور ہندی اور چینی اور مصری اور ایرانی اور مغربی اور مشرقی سب خدا کی تعریف میں لگ گئے اور یہ تسلیم کیا گیا کہ ہر قوم کا خدا الگ نہیں ہے بلکہ سب اقوام کا خدا ایک ہی ہے۔