تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 31
ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد حقیقی ہوتی ہے اور غیر اللہ کی طفیلی کیونکہ انسان میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں ذاتی نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عطا شدہ ہوتی ہیں۔پس جو تعریف کسی انسان کی کی جاتی ہے اس کا بھی اصل مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔آیت کے مطالب اَلْـحَمْدُ لِلہِ کی آیت کے دس مطالب اس آیت کے بعض مطالب ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔(۱) اس جہان کا خالق سب نقصوں سے پاک اور سب خوبیوں کا جامع ہے (۲) وہ تمام مخلوق کی ُکنہ اور حقیقت سے واقف ہے اور اس کے سوا کوئی شخص بھی کسی چیز کی کامل ماہیت سے واقف نہیں۔اس دعویٰ کا روشن ثبوت سائنس کی ترقی سے مل چکا ہے۔مختلف اشیاء کی تحقیق میںسینکڑوں علماء لگے ہوئے ہیں لیکن اب تک ادنیٰ سے ادنیٰ شے کی کامل حقیقت سے بھی کوئی آگاہ نہیں ہو سکا۔اور ہر چیز کے متعلق تازہ انکشافات ہوتے چلے جا رہے ہیں۔(۳) خدا تعالیٰ کامل حمد کا مالک تب ہی ہو سکتا ہے کہ وہ رَبُّ الْعَالَمِیْن ہو۔اگر رَبُّ الْعَالَمِیْن نہ ہو تو وہ کامل حمد کا مالک نہیں ہو سکتااس لئے ضروری ہے کہ جس طرح اس کا جسمانی نظام سب کے فائدہ میں لگا ہوا ہے اس کا روحانی نظام بھی سب پر حاوی ہو۔اور کوئی ملک اور کوئی قوم روحانی ترقی کے سامانوں سے محروم نہ ہو۔پس اگر کوئی الہام کسی خاص قوم سے مخصوص ہے تو دوسری قوم کے لئے الگ الہام نازل ہونا چاہیے۔اور جب دوسری قوموں کے لئے الگ الہام نازل نہ ہو تو ایسے وقت میں جو الہام نازل ہو وہ سب دنیا کی ہدایت کے لئے ہونا چاہیے (پس جو مذاہب اس امر کے قائل ہیں کہ الہام صرف انہی کی قوم کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے یا یہ کہ نجات صرف انہی کی قوم یا مذہب کا حق ہے غلطی پر ہیں)۔(۴) انسانوں کے اندر جس قدر کمالات ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں۔اس لئے جو نیکی بھی وہ کریں اس کی تعریف کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔(۵) حمدکو ربوبیت عالمین کے ساتھ وابستہ کر کے یہ بتایا ہے کہ حقیقی خوشی انسان کو اسی وقت ہونی چاہیے جب اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین ظاہر ہو۔جو شخص اپنے فائدہ پر خوش ہوتا ہے اور دُنیا کے نقصان کی طرف نگاہ نہیں کرتا وہ اسلام کی تعلیم کو نہیں سمجھتا۔حقیقی خوشی یہی ہے کہ سب دنیا آرام میں ہو۔(۶) یہ فرما کر کہ اللہ تعالیٰ رَبُّ الْعَالَمِیْن ہے۔اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہرشے ربوبیّت کا محل ہے یعنی ارتقاء کے قانون کے ماتحت ہے۔یہ بتایا ہے کہ دنیامیں کوئی چیز نہیں جس کی ابتداء اور انتہا یکساں ہو۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے ِسوا ہر چیز تغیرّ پذیر ہے اور ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اعلیٰ کی طرف جاتی ہے۔