تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 370

اگر سر ولیم اور پادری وہیری غور کرتے تو انہیں معلوم ہو سکتا تھا کہ یہ فرق جو مکی اور مدنی سورتوں کے بیان میں ہے اِس کی نہایت معقول وجہ موجود ہے اور و ہ یہ کہ مکہ میں مسلمانوں پر کفار کا یہ طعنہ ہوتا تھا کہ یہ ذلیل اور غریب ہیں ان کے پاس وہ نعمتیں نہیں ہیں جو ہمیں حاصل ہیں اس لئے انہیں کے الفاظ میں جنت کی حقیقت کو بیان کیا گیا۔اوربتایا گیا کہ جن چیزوں پر تم کو فخر ہے ان سے بہتر مسلمانوں کو ملیں گی لیکن مدینہ میں جب مسلمانوں کے قدم اللہ تعالیٰ نے جما دیئے تو کفار کے اس اعتراض کی گنجائش نہ رہی اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اس رنگ کے جواب کو ترک کر دیا۔اب آئندہ زمانوں کے لئے قرآن شریف میں دونوں طرح کی تشریح جنت کی موجود ہے جن کا اعتراض مسلمانو ںپر مکی زندگی کے دشمنوں کا سا ہو ان کے لئے مکی زندگی کی آیات میں جواب موجود ہے اور جن کا اعتراض مدنی زندگی کے دشمنوں کا سا ہو ان کے لئے مدنی زمانہ کی آیات موجود ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ مکی زمانہ میں اعتقادات کی تشریح پر زور دینا ضروری تھا کیونکہ ابتداء میں اعتقادات کی درستی اور تلقین ہی ضروری ہوتی ہے اس لئے ان سورتوں میں اعتقادی مسائل کی تشریح زیادہ تفصیل سے موجود ہے اور جنت بھی اعتقادات میں سے ہے پس جنت کے متعلق زیادہ تفصیل مکی سورتوں میں ہے مدنی سورتوں میں چونکہ اسلامی تمدن کا قیام زیادہ مقدم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے حسبِ حال تعلیم مدنی سورتوں میں دی ہے اور وہ مدنی احکام کی زیادہ تفصیل بیان کرتی ہیں اور ان میں ان مسائل کی طرف (جب بھی ان کا ذکر آئے) صرف اشارہ ہوتا ہے جو مکی سورتوں میں بیان ہو چکے تھے اور کلام حکیم میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔سر ولیم نے اعتراض کا ایک اور پہلو بھی اختیار کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ بات نہیں جو اوپر بیان ہوئی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ میں آئے تو یہود و نصاریٰ کے اثر سے انہوں نے جنت کے بارہ میں اپنے کلام کو بدل دیا۔کسی نے سچ کہا ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔مسیحی مصنف کفارِ مکہ کے اِسی اعتراض کو بڑی وقعت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ کو کوئی اور شخص سکھاتا ہے اور اس پر زور دیتے ہیں کہ بعض مسیحی لوگ جو غلام تھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مسیحی کتب کی باتیں بتاتے تھے اور کبھی وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپؐ نے ایک مسیحی راہب سے اپنی جوانی میں مسیحی مذہب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اسے قرآن میں نقل کر دیا۔سر ولیم میور نے اپنی کتاب میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آپؐ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے جو ایک رومی غلام تھے اور مکہ میں رہتے تھے عیسائیت کے بارہ میں علم حاصل کیا تھا (Life of Mohammad ch:Extension of islam and early converts) اگر یہ بات درست ہے تو مدینہ میں آنے سے پہلے ہی آپ کو مسیحی تعلیم کا علم تھا اور مدینہ