تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 371

میں آ کر جنت کے بارہ میں مسیحی تعلیم سے متاثر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر واقعہ میں مسیحی اور یہودی غلام آپؐ کو پرانے اور نئے عہد نامہ کی باتیں بتایا کرتے تھے تو یہ علم آپ کو مکہ میں ہی حاصل ہو جانا چاہیے تھا۔بات یہ ہے کہ یہودی اور نصرانی لٹریچر میں جنت کا کوئی ذکر ہی نہیں اسرائیلی لوگوں کو اس دنیا کی زندگی سے ایسی اُلفت رہی ہے اور اُن کی شاخ مسیحیت بھی اسی مرض میں مبتلا رہی ہے کہ اُخروی زندگی کے بارہ میں اُن کی کتب میں کوئی معین تعلیم موجود نہیں۔وہ سب ان وعدوں کو جو انبیاء نے اُخروی زندگی کے بارہ میں کئے ہیں اِسی دنیا پر چسپاں کرتے چلے آئے ہیں۔پس ان سے کسی کا متاثر ہونا امر محال ہے۔ان کی کتب میں نہ ان مسائل پر بحث ہے اور نہ کوئی ان سے کچھ اخذ کر سکا ہے۔وہ تو اِسی دنیا کی طرف راغب رہے ہیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے حق میں فرماتا ہے کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (الکہف :۱۰۵) یعنی ان کی تمام کوششیں اسی دنیا میں غائب ہو کر رہ جاتی ہیں پس اگر کوئی ان سے اس بارہ میں حاصل کرنا بھی چاہے تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں !قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے ان مسائل پر َسیر ُکن بحث کی ہے جو اپنے اپنے موقع پر بیان ہو گی۔میں آخر میں اس امر کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس آیت کے بارہ میں جو مضامین میں نے بیان کئے ہیں وہ بانی سلسلہ احمدیہؑ کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں۔عالم اُخروی کے متعلق اس کتاب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے کوئی شخص جو اس مسئلہ کے متعلق کچھ بیان کرے اس سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔وَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَکی تشریح وَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔وہ جنت میں بستے چلے جائیں گے۔فنا کبھی اُن پر نہ آئے گی۔یہ پہلی دونوں باتوں کا لازمی نتیجہ ہے۔فنا اسی صورت میں ہوتی ہے کہ جب انسان کی غذا اس پر متضاد اثر ڈالے آخر ایک دن اس کی متضاد غذا کا اثر موت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا موت اس طرح آتی ہے کہ کوئی اسے مار دے۔جب وہاں کی ہر غذا دوسرے کی مؤید ہو گی اور انسان کی اندرونی طاقتوں کے بھی مطابق ہو گی اورجب سب ساتھی نیک اور پاک ہوں گے اور کوئی کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو گا تو ظاہر ہے کہ موت کے دروازے بند ہو جائیں گے اور ابدی زندگی کا مقام انسان پائے گا۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيٖۤ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا اللہ ہرگز نہیں رکتاکسی بات کے بیان کرنے سے (خواہ وہ) مچھر کے برابر ہو یا اس سے (بھی)بڑھ کرہو۔پھر جو