تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 369

کی حالت مکہ میں اچھی تھی لیکن چونکہ آپؐ نے حضرت خدیجہؓ کی دولت کو آہستہ آہستہ نیک کامو ںمیں خرچ کر دیا اس لئے مدینہ منورہ کے ایام میں آپؐ کی وہ آسودگی کی حالت نہ رہی تھی پس اگر یہ فرق کسی نفسیاتی اثر کے ماتحت ہوتا تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا جیسا کہ سر ولیم نے سمجھا ہے۔اگر سر ولیم کا طریق استدلال ٹھیک ہو تو پھر مسیحیت کے مخالفوں کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کہیں کہ یسوع کو چونکہ بوجہ غربت اور یہود کی مخالفت کے اِدھر اُدھر بھاگے پھرنا پڑتا تھا اس لئے وہ اپنے دل کی تکلیف کا ازالہ اِن خیالات کے ذریعہ کرتا رہتا تھاکہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہونے والا ہے اسی طرح سرولیم کے مقرر کردہ اصل کے ماتحت یسوع کی نسبت یہ اعتراض بھی درست تسلیم کیا جانا چاہیے کہ چونکہ ان کو شادی کی توفیق نہ ملی اس لئے ان کے ذہنی جذبات انہیں ایک دوبارہ آمد کے خیال میں مبتلا رکھتے تھے جبکہ وہ دُلہا کی شکل میں آئیں گے اور ایک نہیں دو نہیں اکٹھی پانچ کنواریوں کو لے کر مکان میں گھس جائیں گے چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ یسوع نے کہا ’’اس وقت آسمان کی بادشاہت دس کنواریو ںکی مانند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے استقبال کے واسطے نکلیں۔اُن میں پانچ ہوشیار اور پانچ نادان تھیں جو نادان تھیں انہوں نے اپنی مشعلیں لیں مگر تیل ساتھ نہ لیا پر ہوشیاروں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ برتنو ںمیں تیل لیا۔جب دُلہا نے دیر کی سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں۔آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دُلہا آتا ہے اس کے استقبال کے واسطے نکلو تب ان سب کنواریوں نے اُٹھ کر اپنی مشعلیں درست کیں اور نادانوں نے ہوشیاروں سے کہا اپنے تیل میں سے ہمیں بھی دو کہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں، پر ہوشیاروں نے جواب میں کہا ایسا نہ ہو کہ ہمارے اور تمہارے واسطے کفایت نہ کرے بہتر ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جائو اور اپنے واسطے مول لو۔جب وے خریدنے گئیں دُلہا آ پہنچا اور وَے جو تیار تھیں اس کے ساتھ شادی کے گھر میں گئیں اور دروازہ بند ہوا پیچھے وے دوسری کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں اے خداوند، اے خداوند ہمارے لئے دروازہ کھول، تب اس نے جواب میں کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمہیں نہیں پہچانتا‘‘ (متی باب ۲۵۔آیت ۱ تا ۱۲) اب دیکھو اگر سر ولیم میور او رپادری وہیری جیسے شخص اسی تمثیل سے یہ نتیجہ نکالیں کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے یسوع کو کنواریوں کا ہی خیال رہتا تھا تو کیا یہ درست ہو گا؟ کیا مسیحی دنیا ایسے اعتراض کرنے والے کو منصف قرا ردے گی۔اگر نہیں تو میں کہتا ہوں کیوں انہوں نے اس قسم کے لوگوں کا مقابلہ نہ کیا جنہوں نے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر ایسے َلغو اور بیہودہ اعتراض کئے اور کیوں مسیحیت کی اِس تعلیم کو یاد نہ رکھا کہ ’’تو اپنے پڑوسی کو ایسا پیار کر جیسا آپ کو‘‘ (متی باب ۲۲ آیت ۳۹)