تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 360

یا مثلاً ایک شخص فطرۃً رحم کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہو اور وہ کسی شخص کو دیکھے کہ دوسرے آدمی پر ظلم کر رہا ہے تو اگر وہ اس ظالم کے متعلق عفو ظاہر کرنا چاہے تو گو عفو نیک عمل ہے مگر اس وقت وہ عمل صالح نہیں ہو گا بلکہ عمل صالح یہ ہو گا کہ وہ اس ظالم کا مقابلہ کرے اور مظلوم کی حمایت کرے یا مثلاً ایک شخص جج کی کرسی پر بیٹھا ہو اور ملک نے اسے مجرموں کی سزا کے لئے مقرر کیا ہو تو اگر وہ ایک چور کو یا ڈاکو کو اپنے طبعی رحم کی وجہ سے چھوڑ دے تو گو عفو نیک عمل ہے مگر چونکہ اس وقت وہ عمل صالح نہ ہوگا خدا تعالیٰ کے حضور میں مقبول نہ ہو گا کیونکہ جج کی کرسی پر بیٹھنے والے کے مناسب حال عمل یہ ہے کہ جو فرض اس کے ذمہّ لگایا گیا ہے اُسے پورا کرے گو جس حد تک قانون اسے اجازت دیتا ہو وہ رحم سے بھی کام لے سکتا ہے۔یا مثلاً کسی شخص کے پاس کسی نے اپنا روپیہ امانت رکھوایا ہوا ہو اور وہ امین شخص اس روپیہ کو غرباء میں تقسیم کر دے تو گو غرباء کی امداد نیک عمل ہے مگر اس کا یہ فعل عمل صالح نہیں ہو گا کیونکہ امین کی حیثیت سے اس کے لئے مناسب حال عمل یہی تھا کہ وہ اس روپیہ کو محفوظ رکھتا اور اگر کسی مستحق کا اسے علم ہوتا تو مال کے مالک کو اس سے حُسن سلوک کرنے کی طرف توجہ دلاتا۔اسی طرح مثلاً اگر کوئی شخص دوسرے کسی شخص کو دربان کے طور پر مقرر کرے اور اس دربان کو علم ہو کہ کوئی ایسی مصیبت دنیا پر نازل ہو رہی ہے کہ جس کی وجہ سے مخلوق خدا کا تباہ ہونا ممکن ہے تو گو اس وقت وہ ایک امانت پر مقرر ہے مگر اس کا فرض ہو گا کہ وہ اس وسیع تباہی کے دور کرنے میں لگ جائے کیونکہ اس وقت عمل صالح یہی ہے کہ وہ تھوڑے نقصان کی پرواہ نہ کرے اور بڑے نقصان کو دُور کرے۔نیک اعمال اور اعمالِ صالحہ میں فرق غرض عمل صالح نیک عمل سے زیادہ وسیع معنے رکھتا ہے اور عملِ صالح اس نیک عمل کو کہتے ہیں کہ جو نہ صرف ظاہری طور پر اچھا ہو بلکہ باطنی طور پر بھی اچھا ہو اور صرف اپنی ذات میں اچھا نہ ہو بلکہ موقع کے لحاظ سے بھی اچھا ہو اور عملِ صالح کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو اندھادھند لفظوںکی اتباع نہیں کرتا بلکہ اپنی عقل خداداد سے کام لے کر یہ بھی دیکھتا ہے کہ موقع کے لحاظ سے وہ عمل کس صورت میں ظاہر ہونا چاہیے یا وہ اس پر کفایت نہیں کرتا کہ وہ کوئی نیک عمل بجا لا رہا ہے بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کے نیک اعمال جو اس کی اور دوسروں کی روحانی یا مادی بہتری کے لئے ضروری ہیں بجا لا رہا ہے۔قرآن کریم میں اس فرق کو ایک نہایت لطیف پیرا یہ میں بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ (الشوریٰ :۴۱) یعنی جس شخص پر ظلم ہو وہ اس کا بدلہ اس قدر لے سکتا ہے جس قدر اس پر ظلم ہوا ہو لیکن جو شخص معاف کرے مگر ساتھ اس کے اصلاح کا پہلو مدِّنظر رکھے تو اس کا اجر اللہ پر ہو گا۔اس آیت میں عفو جو ایک نیک عمل ہے اس کی تعریف کی گئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ شرط لگا دی ہے کہ عفو اسی صورت میں خدا تعالیٰ کے حضور پسندیدہ ہو گا جبکہ اس کے نتیجہ میں اصلاح بھی پیدا ہو