تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 359
خلاصہ یہ کہ رُوحانی انعامات سے یہ مراد نہیں کہ اُخروی زندگی میں محض ایک اندرونی احساس خدا تعالیٰ کی نعمتوںکا ہو گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب نعمتیں جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے فرمایا ہے اُخروی نعماء کی تمثیل ہیں اور بجائے یہ کہنے کے کہ اُخروی زندگی میں اس دنیا کی نعمتوں کی مثل ملے گی یُوں کہنا چاہیے کہ اخروی نعمتیں تو اصل ہیں اور یہاں کا پانی اور یہاں کا دودھ اور یہاں کا شہد اور یہاں کے پھل سب اُخروی زندگی کی تمثیل ہیں اور ان نعمتوں کا نقشہ کھینچنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور چونکہ یہ دنیا مادی ہے انہیں مادی شکل دے دی گئی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے ان نعماء سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جب تمثیل ایسی لذیذ ہے تو اصل شے کہیں لذیذ ہو گی کیونکہ رُوح اپنے احساس کے لحاظ سے جسم سے بہت زیادہ شدت رکھتی ہے۔اس تشریح کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ان اعتراضات کا جواب الگ الگ دینے کی ضرورت نہیں جو اوپر درج ہو چکے ہیں ان سب اعتراضوں کا سوائے ایک کے اس تشریح میں جواب آ گیا ہے اور وہ ایک اعتراض وہ ہے جو بیویوں کے متعلق ہے سو اس کا جواب آ گے چل کر اس ٹکڑے کی تفسیر کے نیچے دیا جائے گا۔اب میں آیت زیرتفسیر کی تفسیر بیان کرتا ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہیں۔انہیں جنتیں ملیں گی او ریاد رکھنا چاہیے کہ جیساکہحَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے۔صَلَحَ کے معنے مناسبِ حال کے ہوتے ہیں پس اعمالِ صالحہ کے معنے مناسب حال اعمال کے ہیں قرآن کریم اور دوسری کتب میں یہ فرق ہے کہ دوسری کتب میں نیک اعمال کرنے کا حکم ہے اور نیک اعمال کا مطلب خدا تعالیٰ کی عبادت اور بندوں سے حُسنِ سلوک مثلاً صدقہ و خیرات، عفو ،احسان وغیرہ اعمال کو سمجھا جاتا ہے مگر قرآن کریم اس کی جگہ عمل صالح کے بجا لانے کا حکم دیتا ہے جو نیک عمل سے زیادہ وسیع مفہوم پر مشتمل ہے قرآن کریم کے نزدیک ایک عمل کی ظاہری اچھی شکل انسان کو پاک کرنے کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کا مناسب حال ہونا بھی ضروری ہے مثلاً قرآنِ کریم کے نزدیک خدا تعالیٰ کی عبادت کی ظاہری شکل کا بجالانا کافی نہیں جب تک کہ وہ ریا اور نمائش سے بھی پاک نہ ہو۔عملِ صالح کرنے کا مطلب نماز نیک عمل ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ریا شامل ہو تو گو بظاہر وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے مگر خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں کیونکہ وہ عمل صالح نہیں اسی طرح مثلاً کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور ایک شخص جو تیرنا جانتا ہو اور اسے اس ڈوبنے والے کا علم ہو جائے وہ اگر اس وقت نماز شروع کر دے تو نماز گو نیک عمل ہے مگر اس وقت عملِ صالح نہ ہو گا کیونکہ اس وقت کے مناسب حال عمل اس ڈوبنے والے کو بچانا ہے نہ کہ نماز پڑھنا۔