تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 361

ورنہ نہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو کوئی ڈاکو ملے جو پاس کے گائوں میں لوٹنے جا رہا ہو وہ ڈاکو اس کی طاقت کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے جاتے جاتے اس پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہے مگر اس سے مغلوب ہو جائے تو گو اس کا اس ڈاکو کو معاف کر دینا بظاہر نیک عمل ہو گا لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ اس ڈاکو کا دل صاف نہیں اور وہ اس سے چھٹ کر گائوں کے کسی اور غریب اور کمزور آدمی پر حملہ کر کے اس کے مال یا اس کی جان کو نقصان پہنچائے گا توچونکہ اس ڈاکو کو معاف کرنا اصلاح کا نہیں بلکہ فساد کا موجب ہو گا اگر وہ شخص اس ڈاکو کو معاف کر دے تو باوجود عفو سے کام لینے کے عمل صالح کا بجا لانے والا نہ سمجھا جائے گا۔اعمال صالحہ اور نیک اعمال میں فر ق کی طرف اشارہ احادیث میں احادیث رسول کریم سے بھی اس فرق کا پتہ چلتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے اچھا عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ قِیْلَ ثُمَّ مَا ذَا قَالَ جِہَادٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ سب سے اچھا عمل کون سا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد تو آپؐ نے فرمایا اللہ کے رستہ میں جہاد کرنا۔(بخاری کتاب الحج باب فضل الحج المبرور) ایک دوسرے موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے آپؐ سے پوچھا یا رسول اللہ سب سے اچھا عمل کون سا ہے تو آپؐ نے فرمایا اَلصَّلٰوۃُ عَلٰی مِیْقَاتِہَا یعنی اپنے وقتوں پر نمازو ںکا ادا کرنا۔وہ کہتے ہیں میں نے پھر پوچھا یا رسول اللہ !اس کے بعد کونسا عمل ہے تو آپؐ نے فرمایا ثُمَّ بِرُّالْوَالِدَیْنِاس کے بعد والدین سے نیکی کرنا۔فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کے بعد پھر کون سا عمل اچھا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ پھر اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اچھا عمل ہے۔(بخاری کتاب الجہاد والسیر باب فضل الجہاد والسیر) جو لوگ شریعت کی باریکیوں سے واقف نہیں۔انہیں اس میں اختلاف نظر آیا ہے اور انہوں نے بحث شروع کر دی ہے کہ اس اختلاف کو کس طرح دُور کیا جائے اور یہ کہ اصل میں کونسا اچھا عمل ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ انہو ںنے غور نہیں کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک اعمال کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ اعمال صالحہ کا مقابلہ کیا ہے جس شخص کو آپؐ نے یہ فرمایا کہ ایمان کے بعد جہاد سب سے اچھا عمل ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جہاد کے موقع پر ُسستی دکھاتاتھا اور اس نیک عمل کے بجا لانے کے متعلق اس کے دل میں قبض تھا پس وہ اپنے تقویٰ کے مکان کو ادھورا رکھ رہا تھا اُسے آپؐ نے یہ بتایا کہ جہاد سب سے اچھا عمل ہے اور مراد یہ تھی کہ تمہارے مناسب حال عمل جہاد ہے کیونکہ تم باقی نیک اعمال بجا لاتے ہو مگر