تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 354

دینے لگتے ہیں۔اس کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۔(المائدة :۹۱،۹۲) یعنی اے مومنو! شراب اور جوَُا اور جو بتوں کے لئے عبادت گاہیں بنائی جاتی ہیں اور لاٹریاں سب گندی باتیں ہیں پس تم ان سے بچو تاکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکو۔شیطان تم میں شراب اور جوئے کے ذریعہ سے صرف عداوت اور بغض پیداکرنا چاہتا ہے نیز اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز سے روکنا چاہتا ہے پھر کیا تم ایسے اعلیٰ درجہ کے کاموں سے رُک جائو گے؟ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ شراب ایک گندی چیز ہے اس کا پینا شیطانی فعل ہے یعنی دین کے خلاف ہے اس سے عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے اور اس کے پینے سے ذکر الٰہی اور نماز میں روک پیدا ہوتی ہے۔اب ان باتوں کو جنت کی شراب کی خصوصیات سے ملا کر دیکھو تو دونوں میں اندھیرے اور نور کا فرق نظر آتا ہے۔اگر دنیا کی شراب کو گندہ کہا گیا ہے تو جنت کی شراب کو پاک اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ہے اگر دنیا کی شراب کو بغض اور عداوت پیدا کرنے والی بتایا گیا ہے تو اُخروی شراب کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ لغو باتیں کرنے اور گالی گلوچ سے وہ بچانے والی ہو گی۔اگر دنیاکی شراب کو عمل شیطان کہا گیا ہے تو اُخروی شراب کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ وہ کثرت اور بلندی پیدا کرنے کا موجب ہو گی۔اگر دنیوی شراب نشہ اور خمار پیدا کرنے والی ہوتی ہے تو اُخروی شراب کی نسبت کہا گیا ہے کہ نہ اس سے نشہ پیدا ہو گا اور نہ خمار۔اگر دنیا کی شراب کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ اس سے بچو تو اُخروی شراب کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی خواہش کرنی ہو تو وہ اس شراب کے حصول کی خواہش کرے۔ان اختلافات سے روزِروشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ جنت کی وہ چیز جس کا نام شراب رکھا گیا ہے نہ صرف یہ کہ دنیوی شراب سے مختلف ہے بلکہ وہ مادی چیز بھی نہیں کیونکہ مادی چیز خواہ کیسی اعلیٰ بھی ہو وہ نہ تو دل کو پاک کر سکتی ہے اور نہ اس سے کثرت اور بلندی پیدا ہوتی ہے۔کثرت اور بلندی تو کسی روحانی چیز سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔جنت کی نعماء سے مراد بعض روحانی نعمتیں ہیں خلاصہ یہ کہ جنت کی نعمتوں کے نام گو دنیا کی چیزوں جیسے رکھے گئے ہیں لیکن ان سے مراد بعض رُوحانی نعمتیں ہیں نہ کہ کوئی جسمانی اشیاء۔کجا یہ کہ وہی اشیاء جو اس دنیا میں پائی جاتی ہیں۔صحابہؓ کے کلام سے بھی اس مفہوم کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں لَیْسَ فِی