تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 355

الدُّنْیَا مِـمَّا فِی الْجَنَّۃِ (شَیْءٌ ) اِلَّا الْاَسْمَآء (تفسیر ابن جریر زیر آیت ھٰذا) یعنی جو کچھ جنت میں ہے اس دنیا میں صرف ان کے نام معلوم ہیں ان کی حقیقت معلوم نہیں۔اُخروی زندگی میں باغات، نہروں ، پانی ، دودھ شراب اور شہد سے مراد غرض اُخروی زندگی میں باغات او رنہروں اور پانی اور دودھ اور شراب اور شہد سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ بعض چیزیں ہوںگی جو اس قسم کی رُوحانی تاثیرات پیدا کریںگی جو یہ دنیا کی اشیاء مادی جسم پر پیدا کرتی ہیں سوائے شراب کے کہ اس کے سب خواص مراد نہیں بلکہ بعض خاص خواص مراد ہیں اور چونکہ اس کا نام استعمال کرنے سے دھوکہ لگ سکتا تھا۔قرآن کریم نے اُخروی شراب اور دنیوی شراب کا فرق بالتفصیل بیان کر دیا۔وہ دھوکہ جو شراب کے نام سے لگ سکتا تھا یہ تھا کہ کیا وہ شراب بھی عقل پر پردہ ڈالنے والی ہو گی اور جسمانی نشہ کی سی کیفیت پیدا کرے گی؟ سو اس کا جواب یہ دیا کہ ان باتوں میں اس کو دنیوی شراب سے مشابہت نہ ہو گی بلکہ اس کی مشابہت اور لحاظ سے ہے اور وہ مشابہت یہ ہے کہ جس طرح شراب انسان کے دماغ پر اثر ڈال کر یکسوئی پیدا کر دیتی ہے وہ شراب بھی یکسوئی پیدا کر دے گی اور اسے پی کر قلوب ُکلیّ طور پر خدا تعالیٰ کی محبت میں َمست اور مدہوش ہو جائیںگے۔جنت کی نعماء کے دنیوی نام اختیار کرنے کی وجہ اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جب جنت کی نعماء بالکل اور قسم کی ہیں اور روحانی ہیں توپھر دنیوی نام کیوں اختیارکئے گئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب سب قسم کے لوگوں کے لئے ہوتا ہے مخالفوں کے لئے بھی اور ادنیٰ لوگوں کے لئے بھی اور اعلیٰ قسم کے لوگوں کے لئے بھی۔ان امور کے متعلق جن کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو ضروری ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ میں کلام کیا جائے کہ ان میں مخالفوں کا بھی جواب آ جاوے اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں کی تسلی کا بھی وہ موجب ہو اور اعلیٰ درجہ کے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اس حکمت کو مدِّنظر رکھ کر قرآن کریم نے اُخروی نعماء کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو سب قسم کے لوگوں کے لئے ان کی عقل اور درجہ کے بموجب تشفیّ کا موجب ہوں چونکہ کفار کہا کرتے تھے کہ دیکھو! محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہم سے سب قسم کی نعمتیں چھڑوانا چاہتے ہیں اور ان کی جماعت بھی تمام نعمتوں سے محروم ہے۔اللہ تعالیٰ نے اُخروی نعمتوں کو ان کے ذہن کے قریب کرنے کے لئے وہ اشیاء جن کو وہ نعمت سمجھتے تھے انہی کے نام لے کر بتایا کہ مومنوں کو یہ سب کچھ حاصل ہو گا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی مالدار کسی عالم سے کہے کہ میرے پاس مال ہے تو وہ عالم اپنے کتب خانہ کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ میرے پاس تم سے بھی بڑھ کر خزانہ ہے اس