تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 353
شہد میں موم نہ ہو وہ ان مادی اقسام کی اشیاء میں سے تو ہو نہیں سکتا۔قرآن مجید میں جنت میں خمار نہ پیدا کرنے والی شراب کا ذکر جنت کی شراب کے متعلق جو یہ آیا ہے کہ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ اور اس سے مَیں نے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ خمار پیدا کرنے والی نہ ہو گی اس کا ثبوت قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے ملتا ہے جس میں مذکور ہ بالا آیت کے مفہوم سے ملتا جلتا مضمون بیان ہوا ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۭ۔بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ۔لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ (الصافات:۴۶تا۴۸) یعنی مومنوں کے پاس چھلکتے ہوئے پیالے بار بار لائے جائیں گے۔وہ سفید ہوں گےاور پینے والوں کے لئے موجب لذت ہوں گے نہ تو اُن سے خمار ہو گا او رنہ مومن ان کو پی کر مدہوش ہوں گے۔اس آیت میں بھی لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَکے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور بعد میں لذت کی تشریح کر دی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نہ تو نشہ ہو گا اور نہ نشہ اُترنے کے بعد کا خمار۔اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیوی شراب حقیقی لذت کا موجب نہیں ہوتی بلکہ در حقیقت غفلت پیدا کر کے غم غلط کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے مگر جنت کی شراب نہ نشہ کرے گی اور نہ بعد کا خمار اس سے پیدا ہو گا۔اسی طرح اس شراب کے بارہ میں ایک دوسری جگہ آتا ہے وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(الدھر :۲۲) اللہ تعالیٰ انہیں وہ کچھ پینے کو دے گا جو پاک اور پاک کر دینے والا ہو گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ۔خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۔وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ۔عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ۠(المطففین:۲۶تا۲۹) مومنوں کو جنت میں خوشبودار شراب پینے کو دی جائے گی جس پر مہریں لگی ہوئی ہوںگی اور اس کا آخری حصہ مشک کا ہو گا اور چاہیے کہ جس نے خواہش کرنی ہو ایسی چیز کی خواہش کرے اور اس کی ملاوٹ کثرت اور بلندی سے ہو گی۔وہ کثرت او ربلندی ایک چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پانی پیا کرتے ہیں۔اسی طرح لکھا ہے يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ (الطور :۲۴) یعنی مومن جنت میں ایسے شراب سے بھرے ہوئے پیالے ایک دوسرے سے چھین جھپٹ کر لیں گے جن میں نہ توکوئی لغو بات ہو گی اور نہ اس کو پی کر ایک دوسرے کو گالیاں دیںگے۔اوپر کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ایک ایسی شراب ملے گی جو نہ نشہ لائے گی نہ خمار پیدا کرے گی۔کثرت او ربلندی والے ایک چشمہ کا پانی ملا کر وہ مومنوں کو دی جائے گی۔اس میں مشک کی سی خوشبو ہو گی۔وہ پاک ہو گی اور جو اسے پئے گا اسے پاک کردےگی اور وہ ایسی شراب ہو گی کہ اس کے پینے والے نہ تو لغو باتیں کریں گے اور نہ ایک دوسرے کو گالیاں دیںگے۔یہ تو جنت کی شراب کا حال بیان ہوا ہے لیکن دنیا میں جو شراب بنتی ہے وہ نشہ لاتی ہے اور اس کو پینے والے لغو باتیں کرتے ہیں اور بعض دفعہ گالیاں