تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 352
ہے کہ جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے او رنہ کسی انسان کے فکر نے اس کی حقیقت کو سمجھا ہے۔اس تشریح سے بھی ظاہر ہے کہ جنت کی نعماء کی حقیقت اِس دنیا کی حقیقت سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اگر وہاں بھی اسی قسم کے مادی باغ اور مادی نہریں اور مادی پھل اور مادی بیویاں ہونی ہیں تو یہ چیزیں تو ایسی ہیں جنہیں آنکھوں نے دیکھا بھی ہے اور کانوں سے سنا بھی ہے اور فکر انسانی ان کی حقیقت کو سمجھتا بھی ہے۔جنت کا نقشہ ازروائے قرآن مجید اصولی طور پر ان انعامات کے متعلق سورہ رعد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ(الرعد:۳۶) یعنی متقیوں کو جن جنات کا وعدہ دیا گیا ہے ان کی کیفیت یہ ہے کہ نہریں ان کے تابع ہو کر بہتی ہوںگی اور ان کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور ان کے سائے بھی دائمی ہوں گے یہ مومنوں کا آخری مقام ہو گا اور کافروں کا آخری مقام آگ ہو گا۔قرآن مجید میں بیان شدہ جنات مادی نہیں اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ باغات جو اُخروی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اِس دنیا کے باغوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان کے پھل بھی دائمی ہیں اور اُن کے سائے بھی دائمی ہیں یعنی ان میں زوال نہیں۔لیکن مادی اشیاء میں زوال کا پیدا ہونا لازمی ہے کیونکہ مادی اشیاء میں تحلیل کا سلسلہ چلتا ہے اور جن چیزوں میں تحلیل کا سلسلہ چلے انہیں غذا کی ضرورت بھی ہوتی ہے اس کے برخلاف جن میں تحلیل کا سلسلہ نہ ہو ان کو غذا کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔پس وہ جناّت ایسی ہیں کہ نہ غذا کی محتاج ہیں اور نہ ان پر فنا آتی ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی جناّت ہر گز مادی نہیں ہو سکتیں۔جناّت کی تفصیل ایک اور جگہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوئی ہے۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ (محمد :۱۶) یعنی جس جنت کا وعدہ متقیوں کو دیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہیں ایسے پانی کی جس کے لئے سڑنا ناممکن ہو گا۔اور ایسے دودھ کی نہریں بہتی ہیں جن کا مزہ کبھی بگڑا نہیں اور ایسی شرابوں کی نہریں رواں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذت کا موجب ہوتی ہیں اور ایسی شہد کی نہریں جاری ہیں جو بالکل مصفّٰے ہے موم وغیرہ کوئی شے اس میں نہیں۔اور انہیں وہاں تمام اقسام کے پھل ملیں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی ملے گی۔اس آیت میں جو امور بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ یہ جنتیں مادی نہیں کیونکہ جو پانی کبھی سڑے نہیں جو دودھ کبھی بگڑے نہیں جو شراب خمار پیدا نہ کرے جس