تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 319

کی پرستش اور دوسرے حیوانات کی پرستش پہلے کی ہے اور چاند سورج کی پرستش نسبتاً مہذب اقوام میں پائی جاتی ہے حالانکہ اگر انسان نے ابتدا میں اپنے گرد و پیش کے حالات سے مرعوب ہو کر خدا کا خیال اخذ کیا تھا تو چاند سورج ستاروں کی پرستش پہلے چاہیے تھی کیونکہ وہ ہر جگہ میں نظر آتے ہیں اور ہر روز نظر آتے ہیں اور دنیا پر ایک خاص اثر ہر روز پیدا کرتے ہیں جو علم ہیئت سے ناواقف انسان کے دل کو خاص طورپر مرعوب کرنے والا ہوتا ہے۔اس کے برخلاف شیر چیتے سانپ کبھی کبھی نظر آتے ہیں اور ان کا اثر اس قدر وسیع نہیں۔علاوہ ازیں اگر انسان ارتقاء کے قواعد کے ماتحت ترقی کر کے بنا ہے توانہی شیر چیتوں سانپوں سے اس کا واسطہ ہزار ہا سال سے پڑ رہا تھا مگر اس نے ان کو کوئی خاص عظمت نہ دی تھی۔پھر کیا وجہ کہ یکدم اس نے ان کو خدائی کا مرتبہ دے دیا حالانکہ ان کے وجود میں ستاروں سورج اور چاند کی طرح کوئی پر اسرار کیفیت نہ تھی جو خدا بنانے کے خیال کے لئے ضروری ہے۔غرض ان حیوانات اور کیڑوں کی پرستش کا خیال پہلے پیدا ہونا جو انسانی ارتقاء کی ترقی کے مسئلہ کے مطابق تو اس کے ہم صحبت بھی رہے تھے اور بندر کی شکل میں یا لنگور کی شکل میں انسان ان سے لڑتا بھڑتا بھی رہا تھا اور بعض کو مارتا بھی رہا تھا اور ستاروں کا خیال بعد میں پیدا ہونا ان فلسفیو ںکے خیالات کی ایک کھلی تغلیط ہے۔تیسری دلیل یہ ہے کہ انسان سانپ بچھو اور سورج چاند کو ہزاروں سال اپنے ارتقائی دو رمیں خدا نہ سمجھا اس کے بعد انہی اشیاء کو جن کو وہ پہلے معمولی وجود سمجھتا تھا خدا سمجھنے لگا تو اس کی وجہ خوف یا ہر اس نہیں ہو سکتی خوف و ہراس تو پہلے دن سے ہی اثر کرتے ہیں مگر ہزاروں سال کے معاملہ کے بعد اس خیال کا پیدا ہونا بتاتا ہے کہ اس کا سبب کچھ اور ہے اور وہ سبب در حقیقت اتفاقی حادثات سے تعلق رکھتا ہے جو انسان کے تو ہم اور اس کے ادھورے علم سے مل کر اسے صداقت سے پھرا کر غلط تعلیم کی طرف لے جاتا ہے افسوس کہ ان فلسفیوں نے علم النفس کو مطالعہ کر کے شرک کے مسئلہ پر غور نہ کیا ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ شرک کا مقام طبعاً توحید کے بعد ہی ہے پہلے نہیں۔بھلا کونسا عقلمند مان سکتا ہے کہ انسان روزانہ سب جانوروں کو مرتے ہوئے دیکھ کر ایک دن اپنے مرنے پر خدا کے خیال کو ایجاد کر بیٹھا حالانکہ وہ پہلے بھی مرتا تھا اور اگر وہ ارتقائیوں کے خیال کے مطابق بندر کی قسم کے کسی جانور سے بنا ہے تو اس وقت بھی تو وہ مرتا تھا اور اس کے گردو پیش کے سب جانو رہی مرتے تھے موت تو اگر کوئی خیال پیدا کر سکتی تھی تو صرف یہ کہ دنیا کی ہر چیز ایک عرصہ کے بعد اپنی قوت کھو کر بیکار ہو جاتی ہے نہ یہ کہ مرنے کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے۔اگر ایسی زندگی کا خیال پیدا ہو سکتا ہے تو خوابوں سے ہو سکتا ہے اور جب دماغی خوابوں پر غلط خیالات کی بنیاد تسلیم کر لی جائے تو سچی خوابوں پر غلط خیالات کی بنیاد تسلیم کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا اور یہ سب جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔