تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 320

ایک اور ثبوت بھی اس کے ردّ میں مَیں پیش کرتا ہوں جو خود ان فلسفیوں کی تحقیقاتوں سے ہی ملتا ہے اور وہ ثبوت یہ ہے کہ تہذیب کے ادنیٰ ترین مقام پر جو قبائل اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں اور مشرکانہ خیالات میں شدت سے مبتلا ہیں ان میں بھی ایک خدا کا خیال پایا جاتا ہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ توحید کا دور پہلا تھا کیونکہ ان کے حالات سے ثابت ہے کہ وہ باوجود ایک بڑے خدا کو ماننے کے اس کی پوجا نہیں کرتے۔پوجا وہ اپنے قومی دیوتائوں کی ہی کرتے ہیں۔آسٹریلیا مکسیکو افریقہ کے قبائل کی تحقیق جو کمپیریٹو ریلیجنز (Comparative Religions)والوں نے کی ہے اس میں تسلیم کیا ہے کہ ان اقوام میں ایک بڑے خدا کا خیال موجود ہے جو ان کے نزدیک نظر نہیں آتا اور آسمانو ںپر ہے۔اب سوال یہ ہے کہ عقلی طور پر ایسے انسان اس خیال کی طرف زیادہ راغب ہوں گے جو پہلے پیدا ہوا یا بعد میں پیدا ہونے والے خیال کی طرف زیادہ راغب ہوں گے۔ظاہر ہے کہ انسان پر وہی خیال زیادہ غالب ہوتا ہے جو آخر میں پیدا ہوا ہو۔اب اگر ایک خدا کا خیال بعد میں پیدا ہوا تھا تو چاہیے تھا کہ ان وحشی قبائل میں جو قدیم زمانہ کی یادگارہیں اس غیر مرئی خدا کی پرستش زیادہ کی جاتی اور ان خدائوں کی پرستش کم کی جاتی جو پہلے خیالات کا نتیجہ تھے کیونکہ ترقی یافتہ خیال غالب ہوا کرتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ اس کے برخلاف ہے مکسیکو ،آسٹریلیا اور افریقہ کے ان وحشی قبائل میں جن میں ایک غیر مرئی اور سب سے بڑے خدا کا خیال پایا جاتا ہے اس کی عبادت بالکل مفقود ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے اور چھوٹے خدائوں اور قومی دیوتائوں کی پرستش وہ لوگ خوب کرتے ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ مشرکانہ خیالات توحید کے خیالات کے بعد پیدا ہوئے اسی لئے ان کی زندگی پر وہی غالب نظر آتے ہیں۔اس امر کے ثبوت میں کہ غیر مہذب قدیم وحشی قبائل میں ایک غیر مرئی خالقِ کل خدا کا یقین پایا جاتا ہے مَیں مندرجہ ذیل مثالیں پیش کرتا ہوں میکسیکو کے قدیم باشندے قدیم ترین اقوام کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں کمپیریٹو ریلیجنز کے محققین نے ان کی نسبت لکھا ہے کہ ان میں بھی یہ خیال موجود ہے کہ ایک خدا ایوونا ویلونا ہے جو سب کا خالق ہے اور سب پر محیط ہے اور سب باپوں کا باپ ہے۔ابتدا میں جب کچھ نہ تھا ویلونا نے خیال کیا اور اس کے خیال کرنے کے بعد اس خیال سے نَمُوّ کی طاقت پیدا ہوئی اور وہ طاقت بڑھتے بڑھتے وسیع فضا کی صورت میں تبدیل ہو گئی اور اس سے خدا کی روشنی جلوہ گر ہوئی اور وہ فضا سکڑنے لگی جس سے یہ چاند اور سورج اور ستارے بنے۔اس خیال کو موجودہ مذاہب کے خیالات سے ملا کر دیکھو تو عجیب مشابہت معلوم ہوتی ہے بلکہ پیدائش عالم کے متعلق جو خیالات ہیں وہ تو موجودہ علم ہیئت کی تحقیق سے اور نیبولائی تھیوری سے ملتے جلتے ہیں۔