تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 318
آتے رہے بلکہ دور کیوںجائیں تورات میں جس توحید کا ذکر ہے اس کے خلاف یہود میں موجودہ زمانہ میں بھی مشرکانہ خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔پھر مسیحیت کو لو اس عقیدہ کے پیش کرنے والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح نے ایک سادہ خدا کی تعلیم دی تھی مگر وہ عقیدہ بگڑ کر اب کیا شکل اختیار کر چکا ہے کیا یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ توحید کا دو رپہلے تھا یااس امر کا کہ شرک کا دورپہلے تھا۔اسلامی کتب سے اس بات کا ثبوت کہ توحید کا دور شرک کے دور سے پہلے تھا سب سے آخر میں اسلام ظاہر ہوا اسی کی تاریخ دیکھ لو وہ مذہب جو ابتدا سے انتہا تک ایک خالص توحید کا پیش کرنے والا مذہب تھا جس میں ارواح پرستی کا کبھی نام نہ تھا جس کے نبی نے اس کو بھی برداشت نہ کیا کہ اس کا کوئی صحابی اسے یہ کہے کہ جو تم چاہو وہ ہو گا جیسا کہ اس (سورۂ ہذا زیر آیت لَاتَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا دیکھو) سے پہلے بتایا جا چکا ہے۔جس کے نبی نے مرتے وقت اپنی قوم کو ان الفاظ سے ہوشیار کیا کہ خدا لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کی جگہ بنا لیا (بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوٰۃ فی البِیَعَۃ) ان کی امت بگڑی تو ان کا کیا حال ہوا؟ قبروں پر سجدے انہو ںنے کئے۔اولیاء کو خدا کی صفات انہوں نے دیں۔مُردوں سے مرادیں انہوں نے مانگیں غرض وہ کونسی مشرکانہ بات تھی جو انہوں نے نہ کی کیا ان کی حالت کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا جائز ہو گا کہ اسلام کی ابتدا شرک سے ہوئی اور بعد میں ایک خدا کا خیال پیدا ہوا کیونکہ ارتقاء کے مسئلہ کے ماتحت بسیط عقیدہ اپنی تمام شاخوںمیں کامل ہو جانے والے عقیدہ سے پہلے ہونا چاہیے؟ اگر ان سب تاریخی حوالوں کا جواب یہ ہو کہ ان اقوام میں توحید پہلے تھی اور شرک بعد میں آیا تو ایسے زبردست تاریخی شواہد کے باوجود اس ڈھکونسلے کے پیش کرنے کے کیا معنے جو اِن نام نہاد فلسفیو ںنے پیش کیا ہے؟ کیا یہ شواہد اس امر کا ثبوت نہیں کہ جس طرح ان اقوام میں توحید کے بعد شرک آیا ان سے پہلی اقوام میں بھی توحید کے بعد شرک آیا؟ اصل بات یہ ہے کہ انسانی ترقی دوروں کی صورت میں ہوتی ہے اور ترقی کے بعد زوال اور زوال کے بعد ترقی کا دور آتا ہے پس انسانی خیالات کے متعلق کسی دور سے یہ قیاس کرنا کہ صرف زوال کا دور پہلے تھا جس سے پہلے کوئی اور ترقی کا دور نہ تھا ایک ایسا بودا قیاس ہے جو کسی صورت میں بھی درست نہیں۔دوسرا جواب اس خیال کے غلط ہونے کے بارہ میں یہ ہے کہ اگر ارتقاء سے خدا تعالیٰ کا خیال پیدا ہوا ہے تو چاہیے تھا کہ سورج چاند ستاروں کی پرستش پہلے شروع ہوتی۔لیکن مشرکانہ قبائل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سانپ