تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 282
پہلے تو قوم کو پڑھانے والے سمجھے جاتے تھے اب دوسروں سے کس طرح پڑھیں۔پوچھنے سے بھی گریز کیا۔اور گونگوں کی طرح ہو گئے۔اندھے اس لئے کہ سچے مومنوں کے اندر جو نیک تبدیلیاں پیدا ہوئیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے فائدہ نہیں اٹھایا۔آخر اَوس اور َخزرج ہی میں سے بیسیوں وہ لوگ تھے جو ہر قسم کے اخلاقی عیوب سے پاک ہو گئے تھے۔ان کے دل خدا تعالیٰ کی محبت سے پُر تھے اُن کی آنکھیں خدا تعالیٰ کے ذکر سے بہتی تھیں ان کی زبان خدا تعالیٰ کی تقدیس کے گیت گاتی تھی۔وہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے جُدا تھے اور آخر ان کی پہلی حالت سے بھی یہ منافق واقف تھے اور ایمان کے بعد کی حالت سے بھی آگاہ تھے پھر اگر قرآن کریم سمجھ میں نہ آتا تھا اور اس کے متعلق اپنے شبہات کا ازالہ کروانے سے شرماتے تھے تو اس عظیم الشان تبدیلی ہی کو دیکھتے جو خود ان کے گھروں میں ظاہر ہو رہی تھی عبداللہ بن ابی ابن سلول کا لڑکا مخلص مسلمان تھا کیا عبداللہ کو نظر نہ آتا کہ اس جیسے کذّاب کے لڑکے کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق اور راستباز کس طرح بنا دیا اور اُس جیسے بُزدل کے لڑکے کو آپؐ نے بہادر او رجری کس طرح بنا دیا؟ اس جیسے دنیا کے پرستار کے لڑکے کو خدائے ذوالجلال کے عرش کے آگے سجدہ میں کس طرح گروا دیا؟ اسی طرح دوسرے منافقوں کے گھروں اور ہمسائیوں کے گھروں میں یہ تبدیلیاں ہو رہی تھیں مگر دل کی آنکھیں اندھی تھیں اس لئے نظر کچھ نہ آتا تھا سجھائی کچھ نہ دیتا تھا۔اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یا (ان کا حال ) اس بارش کی طرح ہے جو گھٹا ٹوپ بادل سے (برس رہی )ہو (ایسی بارش) جس کے ساتھ يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ (قسما قسم کے) اندھیرے اور گرج اور بجلی ہوتی ہے یہ اپنی انگلیوں کو کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے کانوں الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ۰۰۲۰ میں ڈال لیتے ہیں حالانکہ اللہ تمام کافروں کو گھیرنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔اَوْ۔اَوْ حرف عطف ہے۔اور مندرجہ ذیل بارہ معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔(۱) اَ لشَّکُّ (۲) اَ لْاِبْہَامُ (۳) اَلتَّخْیِیْرُ (۴) اَلْـجَمْعُ الْمُطْلَقُ (۵) اَلتَّقْسِیْمُ (۶)اَ لْاِضْرَابُ