تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 283
۷) اَلْاِ بَاحَۃُ (۸) بمعنٰی اِلَّا (۹) بمعنٰی اِلٰی (۱۰) اَلتَّقْرِیْبُ (۱۱) اَلشَّرْطِیَّۃُ (۱۲) اَلتَّبْعِیْضُ۔(مغنی اللبیب) آیت ہذا میں ان میں سے دو معنے چسپاں ہو سکتے ہیں جن کی تشریح ذیل میں درج ہے۔(۱) اَلْجَمْعُ الْمُطْلَقُیعنی کبھی دو امور کے درمیان لفظ اَوْ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنے ’’اور‘‘ کے ہوتے ہیں چنانچہ ؎ وَقَدْ زَعَمَتْ لَیْلٰی بِاَنِّیْ فَاجِرٌ لِنَفْسِیْ تُقَاھَا اَوْ عَلَیْہَا فُجُوْرُھَا میں اَوْ بمعنے یا نہیں بلکہ بمعنے ’’اور‘‘ ہے یعنی میرے نفس کا تقویٰ مجھے ہی فائدہ دے گا اور اس کی برائی بھی مجھ پر ہی وبال ثابت ہو گی۔(۲) اَلتَّقْسِیْمُ۔کسی چیز کی مختلف اقسام بتانے کے لئے بھی اَوْ آتا ہے۔چنانچہ نحو کا یہ جملہ کہ اَلْکَلِمَۃُ اِسْمٌ اَوْ فِعْلٌ اَوْ حَرْفٌ اس کی مثال ہے اس میں اَوْ تقسیم کے لئے استعمال ہوا ہے اور معنی یہ ہیں کہ کلمہ کی تین قسمیں ہیں یا وہ اسم ہو گا یا فعل ہو گا یا حرف ہو گا۔(مغنی اللبیب) کَصَیِّبٍ۔اَلصَّیِّبُ کے معنے ہیں اَلسَّحَابُ ذُوالصَّوْبِ۔ایسا بادل جو کڑک اور بارش والا ہو (اقرب) اَلصَّوْبُ۔خَزُوْلُ الْمَطَرِ اِذَا کَانَ بِقَدَرٍ مَّا یَنْفَعُ یعنی صوب بارش کے ایسے طور پر اور ایسے انداز پر برسنے کو کہتے ہیں جبکہ وہ موجب نفع ہو۔وَالصَّیِّبُ۔اَلسَّحَابُ الْمُخْتَصُّ بِالصَّوْبِ۔اور صَیِّب اُس بادل کو کہتے ہیں جس میں صوب کی صفت پائی جائے یعنی خوب برسے۔(مفردات) السَّمَآء۔اَلسَّمَآءُ آسمان کُلُّ مَا عَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز سَقْفُ کُلِّ شَیْ ءٍ وَبَیْتٍ۔چھت۔رَوَاقُ الْبَیْتِ گھرکے سامنے کا چھجہ۔ظَہْرُ الْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔اَلسَّحَابُ بادل۔اَلْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطَرُ الجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ(اقرب) ظُلُمَاتٌ۔ظُلُمَاتٌ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۱۸۔نیز تاج العروس جلد ثامن میں ہے کہ اَلْعَرَبُ تَقُوْلُ لِلْیَوْمِ الَّذِیْ تَلْقٰی فِیْہِ الشِّدَّةُ یَوْمٌ مُظْلِمٌ۔اہل عرب شدت اور تکلیف کے دن کو ظلمت والا دن کہتے تھے۔رَعْدٌ۔رَعْدٌ رَعَدَ کا مصدر ہے اور رَعَدَ السَّحَابُ کے معنے ہیں صَاتَ وَ ضَجَّ لِلْاَمْطَارِ بادل برسنے