تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 281
وَثَقُلَتْ سَمْعُہٗ اس کے کان بند ہو گئے اور بوجھل ہو گئے یعنی شنوائی جاتی رہی فَھُوَ اَصَمُّ اور ایسے شخص کو اَصَمُّ یعنی بہرہ کہتے ہیں اَ لْاَصَمُّ اَیْضًا اَلرَّجُلُ لَایُطْمَعُ فِیْہِ وَلَا یُرَدُّ عَنْ ھَوَاہُ اور ایسے شخص کو بھی اَصَمّ کہتے ہیں جس کے راہِ راست پر آنے کی امید نہ کی جا سکے اور نہ اس سے کسی بھلائی کی امید کی جا سکے اور اس کو بھی اَصَمّکہتے ہیں جو اپنی شرارت سے باز نہ آئے اور اس کو ہوا پرستی و گمراہی سے روکا نہ جاسکے۔(اقرب) بُکْمٌ۔اَبْکَمُ کی جمع ہے۔جو بَکَمَ سے صفت مشبّہ ہے۔اَلْبُکْمُ کے معنے ہیں اَلْخُرْسُ مَعَ عَیٍّ وَبَلْہٍ ایسا گونگاپن جس میں زبان کی رکاوٹ اور سادہ لوحی پائی جائے۔وَقِیْلَ ھُوَ الخُرْسُ مَاکَانَ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنے مطلق گونگا پن کے ہیں خواہ کیسا ہی ہو۔وَقَالَ ثَعْلَبُ اَلْبُکْمُ اَنْ یُّوْلَدَ الْاِنْسَانُ لَایَنْطِقُ وَلَایَسْمَعُ وَلَایَبْصُرُ۔ثعلب جو لغت کے مشہور امام ہیں کہتے ہیں کہ اَبْکَمُ ایسے شخص پر بولا جائے گا جس کی پیدائش ایسی ہو کہ نہ وہ بول سکے اور نہ سُن سکے اور نہ دیکھ سکے۔نیز اَبْکَمُ کے معنی ہیں۔اَخْرَسُ بَیِّنُ الْخُرْسِ۔ایساگونگا جس کا گونگا پن ظاہر ہو قَالَ الْاَزْھَرِیُّ بَیْنَ الْاَخْرَسِ وَالْاَ بْکَمِ فَرْقٌ فِیْ کَلَامِ الْعَرَبَ۔ازہری کہتے ہیں کہ اَخْرَسُ اور اَبْکَمُ میں کلام عرب میں فرق ہے فَالْاَخْرَسُ الَّذِیْ خُلِقَ وَلَا نُطْقَ لَہٗ کَالْبَھِیْمَۃِ الْعَجْمَاءِ وَالْاَ بْکَمُ الَّذِیْ بِلِسَانِہٖ نُطْقٌ وَھُوَ لَایَعْقِلُ الْجَوَابَ وَلَا یُحْسِنُ وَجْہَ الْکَلَامِ۔اَخْرَس ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو ایسی ِخلقت میں پیدا ہو کہ اس میں قوت ناطقہ نہ ہو اور وہ حیوان کی طرح ہو اور اَبْکَمْ ایسے شخص کو کہیں گے جس کی زبان میں نطق تو ہو لیکن وہ جواب نہ دے سکتا ہو اور نہ اچھی طرح کلام کر سکتا ہو۔(لسان) عُمْیٌ۔عُمْیٌ اَعْمٰی کی جمع ہے اس کا فعل عَمِیَ ہے کہتے ہیں عَمِیَ: ذَھَبَ بَصَرُہٗ کُلُّہٗ مِنْ عَیْنَیْہِ کِلْتَیْھِمَا یعنی بکلی آنکھوں سے اندھا ہو گیا۔نیز عَمِیَ فُـلَانٌ کے معنے ہیں۔ذَھَبَ بَصَرُ قَلْبِہٖ وَ جَھِلَ دل کا اندھا اور بصیرت سے کورا ہو گیا۔غَوِیَ: بدراہ ہو گیا (اقرب) لَا یَرْجِعُوْنَ۔لَا یَرْجِعُوْنَ رَجَعَ سے مضارع منفی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور رَجَعَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں اِنْصَرَفَ واپس لوٹا(اقرب) پسلَایَرْجِعُوْنَ کے معنے ہوں گے وہ لوٹیں گے نہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ منافق بہرے۔گونگے اور اندھے ہیں۔اس لئے اپنی شرارتوں سے باز نہیں آسکتے۔بہرے اس لئے کہ قرآن کریم سنا مگر پھر بھی اس سے فائدہ نہ اُٹھایا گونگے اس لئے کہ اگر دل میں شبہات پیدا ہوتے تھے تو ان کے بارہ میں سوال کر لیتے اور اس طرح دل صاف کر لیتے۔مگر جھوٹی عزت کے خیال سے کہ