تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 280
یعنی یہ میرے شیوخ ہیں جن کو تم جانتے ہو۔اس مصرعہ میں اشیاخی کے لئے جو جمع ہے اَلَّذِیْ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔قرآن کریم میں بھی دوسرے مقامات پر اسی طرح اَلَّذِیْ جمع کے لئے استعمال ہوا ہے فرماتا ہے وَ الَّذِيْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(الزمر:۳۴)یعنی اَلَّذِیْ کے بعد پہلے مفرد ضمیر استعمال کی اور جَآئَ اور صَدَّقَ کے الفاظ رکھے مگر بعد میں اُولٰٓئِکَ کہہ کر جمع کے لفظ سے اشارہ کیا۔اسی طرح ایک اور جگہ آتا ہے وَ خُضْتُمْ كَالَّذِيْ خَاضُوْا (التوبۃ:۶۹) اور تم باتوں میں پڑ گئے جس طرح پہلے لوگ باتوں میں پڑ گئے تھے۔یہاں اَ لَّذِیْ کہہ کر خَاضُوْا کہا ہے جس میںجمع کی ضمیر ہے۔غرض اس آیت میں پہلے تو اَلَّذِیْ کے لفظ کی رعایت سے اِسْتَوْقَدَ کالفظ لایا گیا جس میں واحد کی ضمیر ہے اورپھر ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ کہہ کربتا دیا گیا کہ گو لفظ مفرد کا استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے ایک جماعت ہے۔نیز اس کا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے اِسْتَوْقَدَ میں ان کے لیڈر کی طرف اشارہ کیا جس نے آگ جلائی تھی اور پھر ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ میں اس طرف اشارہ کر دیا کہ وہ شخص اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک جماعت بھی ہے۔اور یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ فساد شروع منافقوں کے لیڈر نے کیاتھا مگر اس کے نتیجہ میں تباہی سب منافقوںپر آئی۔ایک اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ پہلے تو فرمایا مَثَلُھُمْ پھر فرمایا کَالَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا یعنی پہلے تو ایک جماعت کی حالت بیان کرنے کا ذکر کیا اور بعد میں ایک شخص کو پیش کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے۔اس جگہ ایک شخص کا ذکر نہیں بلکہ اَلَّذِیْکی وجہ سے واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد جمع ہی ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ایک جماعت کی حالت بھی ایک شخص کی حالت کے مشابہ ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔تیسرا جواب یہ ہے کہ جماعت کو ایک سے مشابہت دینا محاورہ کے خلاف نہیں۔قرآن کریم میں بھی دوسری جگہ آتا ہے۔مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا (الجمعۃ :۶) یعنی وہ لوگ جن پر تورات حکماً لا دی گئی۔پھر انہو ںنے اس کو نہ اٹھایا یعنی اس پر کار بند نہ ہوئے ان کی مثال گدھے کی مثال ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَۙ۰۰۱۹ وہ بہرے ہیں ،گونگے ہیں، اندھے ہیں پس وہ لوٹیں گے نہیں۔حَلّ لُغَات۔صُمٌّ۔صُمٌّ اَصَمُّ کی جمع ہے اور کہتے ہیں صَمَّ الرَّجُلُ صَمًّا وَصَمَمًا۔اِنْسَدَّتْ اُذُنُہٗ