تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 251

ظہور ان کے ذریعے سے ہوتا ہے۔اسی طرح مَشَاعِر باطنی حواس کو کہتے ہیں۔پس شعور وہ مخفی حس ہے جو انسان کو اس کے اندرونی قویٰ کا علم دیتی ہے اور اس کا تعلق بیرونی علم سے نہیں۔پس وَمَا یَشْعُرُوْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ دھوکا دینا ایک ایسا فعل ہے جس کے خلاف فطرت صحیحہ گواہی دیتی ہے مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے مذہب کو توکیا سمجھنا ہے خود اپنے نفس کو بھی نہیں سمجھتے اور نہیں جانتے کہ منافقت ان افعال قبیحہ میں سے ہے کہ جن کو فطرت صحیحہ بھی ردّ کرتی ہے اور کسی دوسرے شخص کے بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس آیت میں ان مسلمان کہلانے والے لوگوں کا ذکر ہے جو دل سے مسلمان نہ تھے اور صرف ظاہری طور پر مسلمانوں سے مل گئے تھے۔یہ لوگ مدینہ کے رہنے والے تھے جب مدینہ کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کیا تو یہ لوگ بھی دیکھا دیکھی اسلام پر پورا غور کئے بغیر مسلمان ہو گئے مگر جب اسلام میں داخل ہونے کی شرائط پر غور کیا، اُس میں داخل ہو کر جو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں انہیں دیکھا تو اسلام میں ترقی نہ کر سکے بلکہ آہستہ آہستہ اس سے دور ہو گئے لیکن اپنی قوم کی وجہ سے ظاہراً اسلام کو ترک بھی نہ کر سکے۔اس گر وہ کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں آیا ہے۔لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىِٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۔اَلْمُنٰفِقُوْنَ۠ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ يَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (التوبة :۶۶،۶۷) یعنی جب منافق لوگ شرارتیں کرتے ہیں اور انہیں اس پر گرفت ہوتی ہے تو وہ عذر کرنے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عذر نہ کرو کیونکہ عذر بے فائدہ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تم پہلے تو رسماً ایمان لے آئے تھے بعد میں پھر کفر میں چلے گئے اگر ہم تم میں سے بعض کو اپنی خاص مصالح کے ماتحت معاف کرتے رہیں گے تو بعض کو حسب موقع سزا بھی دیتے رہیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔منافق مرد بھی اور منافق عورتیں بھی آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا شغل یہ ہے کہ جن امور سے اسلام روکتا ہے وہ ان کے کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں اور جن باتوں کی اسلام تحریک کرتا ہے وہ ان کے نہ کرنے کی ایک دوسرے کو ہدایت کرتے رہتے ہیں اور اسلام کی مدد سے ہاتھ کھینچے رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو انہوںنے چھوڑ دیا ہے پس خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا ہے یقینا منافق ہی اطاعت سے باہر نکلنے والے ہیں (ورنہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو آپ نہیں چھوڑتا) ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ پہلے تو اسلام میں داخل ہو گئے تھے پھر بعد میں اُن کے دلوں سے اسلام نکل گیا۔اس گروہ میں کچھ مرد بھی شامل تھے اور کچھ عورتیں بھی۔یہ لوگ اسلام پر اعتراض کرتے رہتے تھے لیکن کھلی