تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 250

زبان کے ماہروں نے لکھا ہے دراصل عربی زبان میں کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جو دوسرے لفظ کا ُکلی ّطور پر ہم معنی ہو بلکہ ہر لفظ مختلف اور زائد معنے دیتا ہے۔چنانچہ علم اس قسم کے جاننے کیلئے آتا ہے۔جو باہر سے پیدا ہو۔یعنی سن کر یا دیکھ کر یا ُچھو کر یا َچکھکر پیدا ہو مثلاً کسی شخص کو ایک میٹھی چیز کا َچکھ کر جس ذائقہ کا پتہ چلتا ہے وہ علم کہلا سکتا ہے شعور یا عرفان نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح عرفان اس علم کو کہتے ہیں جو دوبارہ حاصل ہو کیونکہ عرفان پہچاننے کو کہتے ہیں اور پہچانتا انسان اُس شے کو ہے جس کا علم اُسے پہلے حاصل ہو چکا ہو۔ایک شخص کو پہچاننے کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے اُسے پہلے دیکھا ہوا تھا دوبارہ دیکھ کر ہمارا وہ سابق علم تازہ ہو گیا اور ہم نے اس علم کے متعلق غلطی نہیں کی۔روحانی علوم کو اسی لئے عرفان کے نام سے موسوم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ذریعہ سے یا فطرتِ صحیحہ کے ذریعہ سے جو روحانی امورہمیں معلوم تھے ہم نے ان کا جب مشاہدہ کیا توپہچان لیا کہ یہ وہی چیز ہے جس کا علم کلامِ الٰہی یا فطرت صحیحہ کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہو چکا تھا۔اسی وجہ سے عارف اُسے کہتے ہیں کہ اس نے خدا تعالیٰ کی صفات کا جن کا علم اُسے کتاب الٰہیہ کے ذریعہ سے حاصل ہو چکا تھا مشاہدہ کر لیا اور سمجھ لیا کہ یہ وہی صفات ہیں جن کو اس نے کلام الٰہی میں پڑھا تھا۔عقل اس قوت کو کہتے ہیں کہ جو انسان کو علم، فکر اور شعور کے مطابق کام کرنے کی توفیق بخشتی ہے اور عاقل وہ ہے جو علم صحیح، فکرِ صحیح اور شعور صحیح کے مطابق کام کرے اور اپنے نفس کو ان کے خلاف چلنے سے رو کے۔فکر اس قوت کا نام ہے جو بیرونی علم سے نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے۔اور مفکرّ اُسے کہتے ہیں کہ جو اس بسیط علم کو جو اُسے حاصل ہو چکا جوڑ کر اور ملا کر ایک نیا نتیجہ پیدا کرے۔جو محض بسیط علم سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔اور شعور اس حسّ کو کہتے ہیں جو اندر سے پیدا ہوتی ہے اور فطرت صحیحہ کو معلوم کرنے کا نام ہے۔پس شعور کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جب انسان اپنی اندرونی طاقتوں کو محسوس کرنے لگتا ہے اور ان جبلیّ طاقتوں کو محسوس کر کے اپنے لئے نیک راہ تجویز کرنے لگتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر پیدا کی تھیں۔چنانچہ بالوں کو اَشْعَارٌ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اندر سے باہر کی طرف اگتے ہیں۔اسی طرح شِعَارٌ اس لباس کو کہتے ہیں کہ جو دوسرے کپڑوں کے نیچے ہو اور جسم سے لگا ہوا ہو۔شِعَارٌ درخت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ زمین سے باہر نکلتا ہے۔اور شِعَارٌ اس اشارہ کو بھی کہتے ہیں کہ جو فوجیں باہم مقرر کر لیتی ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ اپنے سپاہیوں کو اپنا مطلب سمجھا سکیں۔اور اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ وہ مخفی ہوتا ہے اور باہمی راز کو ظاہر کرتا ہے اسے انگریزی میںPass Word) یا (watch word کہتے ہیں شِعْرکو بھی شعر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اندرونی جذبات کو بیان کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کو ظاہر کرنے والے امو رکوبھی شَعَائِر کہتے ہیں۔کیونکہ ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے منشاء کا پتہ چلتا ہے اور اس کی صفات کا